پلوامہ حملہ: نصیر احمد کی شہادت پر کیا کہتا ہے ان کا خاندان اور گاؤں

پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں شہید ہوئے 40 جوانوں میں جموں و کشمیر کے راجوری کے رہنے والے نصیر احمد بھی تھے

Feb 19, 2019 05:43 PM IST | Updated on: Feb 19, 2019 06:02 PM IST
پلوامہ حملہ: نصیر احمد کی شہادت پر کیا کہتا ہے ان کا خاندان اور گاؤں

جموں و کشمیر کے راجوری کے ایک چھوٹے سے گاؤں دوداسن سے تعلق رکھنے والے نصیر احمد کے خاندان اور ان کے گاؤں میں غم کا ماحول ہے۔ پلوامہ میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں شہید ہوئے 40 جوانوں میں جموں و کشمیر کے راجوری کے رہنے والے نصیر احمد بھی تھے۔ اس حادثہ میں جہاں ایک جانب خاندان بےحدغمگین ہے وہیں دوسری جانب انہیں اس شہادت پر فخر بھی ہے۔

نصیر کی اہلیہ شازیہ کوثر کو جب شہادت کا پتہ چلا تو وہ گم سم ہو گئیں۔ نصیر کی بیٹی فلک کو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا کہ اس کے ابو نہیں رہے۔ فلک کی آنکھوں میں آنسو تھے۔ فلک نے نیوز 18 کو بتایا کہ ابو کے نہیں رہنے کا غم ہے، لیکن میرا بھائی ابو کا بدلا لیگا ضرور لیگا۔

Loading...

نصیر احمد کا پورا خاندان ملک کی خدمت کے لئے کام کر رہا ہے۔ ایک بھائی جموں و کشمیر پولیس میں ہے اور نصیر خود سی آر پی ایف میں تھے۔

نیوز 18 سے بات کرتے ہوئے ان کے بھائی نے بتایا کہ جب انہیں بھائی کی شہادت کی خبر ملی تو پورے گاؤں میں ماتم چھا گیا۔ نصیر 22 سال پہلے سی آر پی ایف میں داخل ہوئے تھے۔ نصیر نے جموں و کشمیر میں ہی اپنا گھر بنایا تھا، تاکہ بچوں کو اچھی تعلیم دلا سکیں۔

بتا دیں کہ سی آر پی ایف کے قافلے پر ہوئے حملہ کے وقت نصیر بس کی فرنٹ سیٹ پر بیٹھے تھے۔ خاندان کو شہید نصیر احمد کا چہرہ تک دیکھنے نہیں کو ملا۔ نصیر احمد سی آر پی ایف کی 76 بٹالیئن میں تھے۔ نصیر کے پاس جموں و کشمیر جانے والے جوانوں کو محفوظ کیمپ تک چھوڑنے کا ذمہ تھا۔ نصیر احمد اکثر گارڈ کمانڈر کے طور پر بس میں جاتے تھے۔

 

Loading...