بیرونی ملکوں سے کالا دھن لانے کے بجائے مودی نے غریب او رکسان کو لائن میں کھڑا کردیا: راہل گاندھی

جون پور۔ بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی مہم کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ بیرونی ملکو ں میں جمع کالا دھن واپس لانے کے انتخابی وعدے پر عمل کرنے کے بجائے مرکز کی بی جے پی حکومت نے غریب اور مظلوم کسانوں کو بینک کی قطار میں کھڑا کردیا ہے۔

Dec 19, 2016 08:19 PM IST | Updated on: Dec 19, 2016 08:19 PM IST
بیرونی ملکوں سے کالا دھن لانے کے بجائے مودی نے غریب او رکسان کو لائن میں کھڑا کردیا: راہل گاندھی

جون پور۔  بدعنوانی اور کالے دھن کے خلاف وزیر اعظم نریندر مودی کی مہم کو ڈرامہ قرار دیتے ہوئے کانگریس کے نائب صدر راہل گاندھی نے آج کہا کہ بیرونی ملکو ں میں جمع کالا دھن واپس لانے کے انتخابی وعدے پر عمل کرنے کے بجائے مرکز کی بی جے پی حکومت نے غریب اور مظلوم کسانوں کو بینک کی قطار میں کھڑا کردیا ہے۔ مسٹر گاندھی نے یہا ں جن آکروش ریلی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی کسانوں کے مسائل پر توجہ دینے کے بجائے سرمایہ داروں کا قرض معاف کررہے ہیں۔ نوٹ بندی کا فیصلہ کرکے انہوں نے ملک کے غریب اور محنت کش عوام کو بینک کی لائن میں کھڑا کردیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ مسٹر مودی نے پچھلے لوک سبھا الیکشن میں کہا تھا کہ بیرونی ملکوں میں جمع کالا دھن میں اپنے ملک میں واپس لاوں گا۔ انہیں معلوم تھا کہ صرف پچاس خاندانوں کے پاس کالا دھن ہے ۔ سوئٹزرلینڈ میں جمع کالے دھن کے بارے میں نریندر مودی کو لسٹ پکڑ ا رکھی ہے ۔ میں نے مودی جی سے کہا کہ آ پ ان چوروں کا نام پارلیمنٹ میں رکھئیے ، ڈھائی سال ہوگئے لیکن مودی جی نے ان کے نام نہیں بتائے۔ کانگریس کے نائب صدر نے کہا کہ مودی حکومت نے اپنے ڈھائی سال کے دور میں ملک کے چنندہ دس سے پندرہ صنعت کارو ں میں ہی ایک لاکھ دس ہزار کروڑ روپے تقسیم کئے ۔ انہیں کسانوں کو کوئی فکر نہیں ہے۔ جو پیسہ صنعت کاروں میں تقسیم کیا گیا وہ ملک کے کسانوں ، مزدوروں کا پیسہ ہے ۔ غریب کسانو ں کا قرض معاف کرنے کے بجائے مسٹر مودی نے صنعت کار وجے مالیہ کا1200کروڑ روپے کاقرض معاف کردیا۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ مرکزی حکومت نے منریگا کو جتنا پیسہ دیا اس سے تین گنا زیادہ صنعت کاروں کو دیا۔ مسٹر مودی نے اقتدار میں آنے سے پہلے ہر خاندان کے کھاتے میں پندرہ لاکھ روپے جمع کرانے، کسانوں کے لئے لڑنے اور کسانوں کے حق میں سوامی ناتھن رپورٹ نافذ کرنے کا وعدہ کیا تھا۔ لیکن ڈھائی برسوں میں وہ ان وعدوں کو بھول گئے۔ انہوں نے کہا کہ اگر وزیر اعظم امیروں کا قرض معاف کرنا چاہتے ہیں تو یہ ان کا ذاتی فیصلہ ہے ۔ کانگریس اس کے خلاف نہیں ہے لیکن ہماری صرف ایک مانگ ہے کہ آپ صرف سوٹ بوٹ کی سرکار نہ چلائیں۔ آ پ کو سرکار غریبوں کے لئے چلانی چاہئے۔ آپ بڑے صنعت کاروں کا قرض معاف کرنا چاہتے ہیں تو کسانوں کا قرض بھی معاف کیجئے۔ کسانوں کو مت بھولئے کیوں کہ کسان ہی رو رہا ہے ۔ صنعت کار نہیں رو رہے ہیں۔ کانگریسی رہنما نے کہا کہ مسٹر مودی نے الیکشن کے دوران کہا تھا کہ ملک کے دو کروڑ نوجوانوں کو ملازمت دی جائے گی مگر جھوٹ کے پلندہ کی اس حکومت نے اپنا یہ وعدہ بھی نہیں نبھایا۔مسٹر گاندھی نے کہا کہ کانگریس پارٹی ہندوستان سے بدعنوانی کو ہٹانا چاہتی ہے ۔ وزیر اعظم نریندر مودی کا آٹھ نومبر کو نوٹ بندی کا فیصلہ بدعنوانی کے خلاف نہیں تھا بلکہ مزدوروں ، غریبوں کے خلاف تھا۔ مسٹر مود ی نے غریب ایماندار لوگو ں سے بغیر پوچھے ہی ان کا خون نکال دیا۔ مودی حکومت ڈھائی سال سے غریبوں پر وار کررہی ہے۔ کانگریس نے ان سے تین چیز مانگی کسان کا قرضہ معاف، بجلی کا بل ہاف اور سبزی بیچنے والوں کو صحیح دام ۔ لیکن انہوں نے ان تینوں مطالبات کو مسترد کردیا۔

مسٹر گاندھی نے کہا کہ مسٹر مودی نے ملک کے عوام پر فائر بامبنگ کی ہے ۔ علاج کے لئے پیسہ نہیں ہے ، کسان بیج، کھاد چیک سے نہیں خریدتا ہے ۔ ڈیبٹ کارڈ سے نہیں خریدتا ، اس کا کیش آپ نے جلا دیا۔ کانگریس کے ریاستی انچارج غلام نبی آزاد نے کہا کہ بی جے پی اصولوں کی سیاست نہیں کرتی بلکہ فرقہ واریت کو بڑھاوا دیتے ہوئے آپس میں توڑتے ہوئے ووٹ لینے کی سیاست کرنے کا کام کرتی چلی آرہی ہے ۔ وزیر اعظم مودی پر طنز کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ پارلیمنٹ میں تو وہ آتے نہیں الٹے اپوزیشن پارٹیوں کے ساتھ ساتھ مجاہدین آزادی کا مذاق اڑانے سے بھی پیچھے نہیں ہٹتے۔ انہوں نے کہا کہ کانگریس کے دور میں چار لاکھ میگا واٹ بجلی کی پیداوار ملک میں کی گئی۔ لیکن اس کا سہرا مسٹر مود ی لینے سے پیچھے نہیں ہٹیں گے ۔ پارٹی کے ریاستی صدر راج ببر نے کہا کہ مسٹر مودی نے نوٹ بندی کرکے دھوکہ دیا ہے۔ ایسے میں 2017میں ان کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے۔

Loading...

Loading...