فیس بک ڈیٹا لیک معاملہ میں بولے راہل، موصل سے توجہ بھٹکانا چاہتی ہے بی جے پی

راہل کے مطابق، حکومت عراق کے موصل میں 39 لوگوں کی موت سے توجہ بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔

Mar 22, 2018 12:57 PM IST | Updated on: Mar 22, 2018 12:57 PM IST
فیس بک ڈیٹا لیک معاملہ میں بولے راہل، موصل سے توجہ بھٹکانا چاہتی ہے بی جے پی

کانگریس صدر راہل گاندھی کی فائل فوٹو۔ پی ٹی آئی۔

نئی دہلی۔ کانگریس صدر راہل گاندھی نے فیس بک ڈیٹا لیک اسکینڈل پر خاموشی توڑتے ہوئے حکومت پر جوابی حملہ کیا ہے۔ راہل کے مطابق، حکومت عراق کے موصل میں 39 لوگوں کی موت سے توجہ بھٹکانے کی کوشش کر رہی ہے۔ جمعرات کی صبح انہوں نے ٹویٹ کرتے ہوئے کہا کہ فیس بک ڈیٹا چوری کیس میں کانگریس کا نام شامل کر دیا گیا، تاکہ میڈیا عراق کے موصل حادثے کو بھول جائے۔

بی جے پی کا الزام

Loading...

دراصل، بدھ کو بی جے پی نے فیس بک اسکینڈل میں کانگریس کنکشن کا دعوی کیا تھا۔ وزیر قانون روی شنکر پرساد نے کانگریس پر سوشل میڈیا کے ذریعے انتخابات کو متاثر کرنے کی کوشش کے سنگین الزامات عائد کیے تھے۔ پرساد نے کہا کہ کانگریس پارٹی نے 2019 کی انتخابی مہم کے لئے برطانوی ایجنسی کیمبرج اینالٹكا کو ذمہ داری سونپی ہے، جس پر کئی سنگین الزام لگے ہیں۔ دراصل کچھ ذرائع ابلاغ کی رپورٹوں میں بھی دعوی کیا گیا تھا کہ کانگریس کیمبرج انالٹیکا سے خدمات لے رہی ہے۔

وزیر قانون کے الزامات کے فورا بعد کانگریس لیڈر رندیپ سرجیوالا میدان میں آگئے اور انہوں نے بی جے پی پر ہی جم کر نشانہ سادھا ۔ انہوں نے کہا کہ یہ بی جے پی کی فرضی نیوز فیکٹری کا نیا پروڈکٹ ہے ۔ انہوں نے روی شنکر پرساد کو "لا لیس " وزیر قانون قرار دیتے ہوئے کہا کہ ایسا لگتا ہے جیسے فرضی بیانات ، فرضی پریس کانفرنس اور فرضی ایجنڈہ ہی بی جے پی کی پہچان بن گئی ہے ۔ انہوں نے کہا کہ انڈین نیشنل کانگریس یا کانگریس صدر نے کبھی بھی کیمبرج اینالیٹیکا کی خدمات حاصل نہیں کیں ، یہ وزیر قانون روی شنکر پرساد کا سفید جھوٹ ہے اور کانگریس کے خلاف فرضی ایجنڈہ ہے۔

کیا ہے پورا معاملہ؟

پولیٹیکل ڈیٹا اینالیسس کمپنی کیمبرج انالیٹیکا پر پانچ کروڑ فیس بک صارفین کا ڈیٹا چرا کر ان کا غلط استعمال کرنے کا الزام لگا ہے۔ اس الزام نے فیس بک کے لئے مصیبت پیدا کر دی ہے۔

Loading...