کانگریس قیادت سے ناراض شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت متبادل کی تلاش میں

نئی دہلی۔ شیلا دکشت بھلے ہی یوپی میں کانگریس کا چہرہ بن گئی ہوں لیکن ان کی دہلی سے الوداعی ان کے بیٹے سندیپ دکشت کے لئے کچھ اچھی ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔

Jul 26, 2016 04:48 PM IST | Updated on: Jul 26, 2016 04:48 PM IST
کانگریس قیادت سے ناراض شیلا دکشت کے بیٹے سندیپ دکشت متبادل کی تلاش میں

نئی دہلی۔ شیلا دکشت بھلے ہی یوپی میں کانگریس کا چہرہ بن گئی ہوں لیکن ان کی دہلی سے الوداعی ان کے بیٹے سندیپ دکشت کے لئے کچھ اچھی ثابت ہوتی دکھائی نہیں دے رہی ہے۔ مشرقی دہلی سے ممبر پارلیمنٹ رہ چکے دکشت نے اپنے بلاگ کے ذریعے غصہ نکالا ہے۔ بلاگ میں ان کے نشانے پر دہلی پردیش کانگریس کے صدر اجے ماکن رہے۔ بتایا جاتا ہے کہ دہلی کی سیاست میں بھی ماکن اور شیلا ایک دوسرے کے مخالف مانے جاتے تھے۔

ایک انگریزی نیوز ویب سائٹ پر شائع بلاگ میں سندیپ دکشت نے لکھا ہے کہ پارٹی کی قومی قیادت ان کے 'باغی فطرت' کی وجہ سے انہیں پسند نہیں کرتی۔ انہوں نے لکھا، تو مجھے کہاں لاکر چھوڑا گیا ہے؟

Loading...

اجے ماکن پر حملہ کرتے ہوئے دکشت نے انہیں اپنی ماں شیلا دکشت کو سیاست میں لے جانے کی کوشش کرنے کا الزام لگایا۔ جہاں تک دہلی یونٹ کی بات ہے تو میں ایسی قیادت کو قبول نہیں کر سکتا جس کا پورا زور شیلا دکشت کی قیادت والی حکومت کو مسترد کرنے میں رہا ہو۔

سندیپ دکشت نے لکھا کہ دہلی کانگریس کمیٹی کی قیادت ایک ایسا شخص کر رہا ہے جو سیدھے طور پر مسلسل شیلا دکشت پر نشانہ سادھ رہا ہے۔ سندیپ نے ماکن پر کیگ کے دولت مشترکہ رپورٹ کے غلط حقائق کو میڈیا تک پہنچانے کا بھی الزام لگایا۔

دکشت نے آگے لکھا، 'میرے سامنے فی الحال تین راستے ہیں۔ پہلے کانگریس جس میں وہ یقین کرتے ہیں، دوسرا بی جے پی اور تیسراعآپ۔ جہاں تک عآپ کا سوال ہے اس کی پوری مہم شیلا دکشت حکومت کے خلاف تھی۔ وہیں، بی جے پی ایک لعنت جیسی ہے۔ متبادل کے بارے میں انہوں نے مزید کہا، 'اب میں ایسے مویشی کی طرح گھاس کی تلاش کروں گا جہاں مجھے اعزاز ملے، میری عزت نفس برقرار رہے۔

سندیپ دکشت سے جب اسے لے کر سوال کیا گیا تو انہوں نے کہا کہ بلاگ میں لکھی گئی ہر بات سچ ہے۔ کانگریس کے سینئر لیڈر پی سی چاکو نے کہا کہ ماکن اور سندیپ دکشت ساتھ ساتھ کام کر رہے ہیں۔ کئی بار ایک ہی پارٹی میں کسی موضوع پر مختلف رائیں ہوتی ہیں لیکن دونوں ایک ساتھ ہیں، ایک پارٹی میں ہیں۔ ماکن کو سندیپ کا پورا تعاون حاصل ہے۔

Loading...