فیس ادا نہ کر پانے پر ٹیچرس نے کیا والد کو بے عزت، پھانسی لگا کر بیٹی نے دے دی جان

غازی آباد میں ایک اسکولی بچی نے باپ کی توہین سے پریشان ہو کر خود کشی کر لی۔

Jul 28, 2016 11:04 AM IST | Updated on: Jul 28, 2016 11:08 AM IST
فیس ادا نہ کر پانے پر ٹیچرس نے کیا والد کو بے عزت، پھانسی لگا کر بیٹی نے دے دی جان

غازی آباد۔ غازی آباد میں ایک اسکولی بچی نے باپ کی توہین سے پریشان ہو کر خود کشی کر لی۔ یہاں کے سهانی تھانہ علاقے میں رہنے والے رتن سنگھ 3 ماہ سے بچوں کی فیس جمع نہیں کرا سکے تھے۔ الزام ہے کہ اسکول ٹیچرس نے فیس کے لئے گھر آکر رتن سنگھ کے ساتھ مار پیٹ کی اور انہیں بے عزت کیا۔ اسی سے بے قرار ہوکر 14 سال کی طالبہ نے پھانسی لگا کر جان دے دی۔

معلومات کے مطابق، رتن سنگھ اصلاً یوپی کے جالون کے رہنے والے ہیں۔ وہ غازی آباد میں اپنے خاندان کے ساتھ رہ رہا تھا۔ سیکورٹی گارڈ کی نوکری کر وہ بیوی رانی اور تین بیٹیوں کے ساتھ کسی طرح گزر بسر کر رہا تھا۔ پريانشی عرف جیسمين (14) نے اسی سال گھوكنا واقع ڈی ایس پی اسکول سے آٹھویں پاس کیا تھا۔

Loading...

فیس بڑھنے کی وجہ سے رتن سنگھ نے بچوں کو اسکول سے نکال لیا تھا اور پريانشی کا گرونانک اسکول اور تین بچوں کا الگ الگ اسکول میں داخلہ کرا دیا تھا۔ وہ پرانے اسکول میں بچوں کے دو سے تین ماہ کی فیس جمع نہیں کر پایا تھا۔ گزشتہ دس دن سے رانی پیسے کا انتظام کرنے کے لئے گاؤں گئی ہوئی تھی اور بدھ کو گھر پر رتن سنگھ بچوں کے ساتھ تھا۔

دوپہر تقریبا تین بجے اسکول کی چھ  خاتون اساتذہ سمیت کئی لوگ رتن سنگھ کے گھر پہنچے اور بچوں کے سامنے ہی اس کے ساتھ بدتمیزی کرنے لگے۔ الزام ہے کہ خاتون اساتذہ نے رتن کے ساتھ مار پیٹ کی اور بچوں سے بھی بدتمیزی کی۔ رتن سنگھ کی مخالفت کرنے پر خاتون اساتذہ نے پولیس کو فون کیا اور رتن پر ہی چھیڑ چھاڑ کا الزام لگایا۔ موقع پر پہنچی پولیس فریقین کو چوکی لے آئی۔

پريانشی اس صورت حال کو دیکھ نہیں سکی، وہ باپ کی ذلت سے دلبرداشتہ ہو اٹھی اور کمرے میں جا کر دروازے کی گرل سے دوپٹے کا پھندہ لگا کر اس نے خود کشی کر لی۔

اب پولیس نے خاتون اساتذہ اور اسکول مینجمنٹ کے خلاف مقدمہ درج کر لیا ہے۔ واقعہ کے خلاف احتجاج میں لوگوں کا غصہ پھوٹ پڑا۔ تھانے پہنچ کر لوگوں نے گھیراؤ کر پولیس کے خلاف جم کر نعرے بازی کی۔ خواتین نے پولیس کی موجودگی میں خاتون اساتذہ کو جم کر پیٹا۔ پرنسپل سمیت 6 خواتین کے خلاف رپورٹ درج ہونے کے بعد بھی مقامی لوگوں میں کافی غصہ ہے۔ پولیس نے پوچھ گچھ کے لئے تین خواتین کو گرفتار کیا ہے اور پانچ ملزمان کے خلاف ایف آئی آر درج کی جا رہی ہے۔

Loading...