جانئے : آج کیوں نہیں ہو رہی ہے گمنامی بابا کے سامان کی تلاشی

فیض آباد : الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے حکم پر گمنامی بابا کے سامانوں کو تلاش کرنے کاکام شروع کیا گیا تھا جو آج اتوار ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔ گمنامی بابا کو ان کے پیروکار نیتا جی سبھاش چندر بوس ہونے کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ ابھی کسی بھی تفتیش میں اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے حکم سے گزشتہ 26تاریخ سے گمنامی بابا کے سامانوں کو کھولا جارہا ہے ۔اتر پردیش میں فیض آباد کے کوشاگار کے ڈبل لاک میں رکھے گمنامی بابا عرف بھگوان جی کے سامانوں میں نیتا جی سبھاش چندر بوس پر لکھی کتابیں ملنے سے طرح طرح کی افواہیں یہاں زور پکڑ رہی ہیں۔

Feb 28, 2016 02:11 PM IST | Updated on: Feb 28, 2016 02:12 PM IST
جانئے : آج کیوں نہیں ہو رہی ہے گمنامی بابا کے سامان کی تلاشی

فیض آباد : الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے حکم پر گمنامی بابا کے سامانوں کو تلاش کرنے کاکام شروع کیا گیا تھا جو آج اتوار ہونے کی وجہ سے روک دیا گیا ہے۔  گمنامی بابا کو ان کے پیروکار نیتا جی سبھاش چندر بوس ہونے کا دعوی کرتے ہیں حالانکہ ابھی کسی بھی تفتیش میں اس کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤبنچ کے حکم سے گزشتہ 26تاریخ سے گمنامی بابا کے سامانوں کو کھولا جارہا ہے ۔اتر پردیش میں فیض آباد کے کوشاگار کے ڈبل لاک میں رکھے گمنامی بابا عرف بھگوان جی کے سامانوں میں نیتا جی سبھاش چندر بوس پر لکھی کتابیں ملنے سے طرح طرح کی افواہیں یہاں زور پکڑ رہی ہیں۔

اڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی ) رام نواس شرما نے آج یہاں یواین آئی کو بتایا کہ انتظامیہ کمیٹی کے اراکین کی موجودگی میں ضلع کوشاگار کے ڈبل لاک میں رکھا گیا گمنامی بابا کا سامان جنہیں نیتاجی سبھاش چندر بوس سمجھا جاتا تھاعرف بھگوان جی کے بکسوں کو کھولکر سامانوں کی فہرست بنانے کا کام کل بھی جاری رہا۔آج اتوار ہونے کی وجہ سے یہ کام روک دیا گیا ہے ۔کل سے پھر اسی طرح سامانوں کو کھنگالنے کا کام چلے گا۔کل تک پانچ بکسے کھول لئے گئے تھے۔کوشاگار میں گمنامی بابا کے سامانوں والے کل 26بکسے رکھے ہیں۔

مسٹر شرما نے بتایا کہ ابھی تک کھلے بکسوں میں کتابیں ،چشمہ ،سروتا،برش ،ٹارچ، کلہاڑی،گنڈاسا،سگریٹ کا پائپ،پینسل،چنبک،بنگالی زبان کی درجن بھر ادبی کتابیں ،ہندی زبان کی کتابیں ،ردراکش کے دانے سمیت چھوٹی چھوٹی کئی چیزیں ملی ہیں۔  انہوں نے کہا کہ الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ کے حکم سے گمنامی بابا عرف بھگوان جی کا سامان کوشاگا سےنکال کر اسے محفوظ جگہ پر رکھاجارہا ہے۔مسٹر شرما نے بتایا کہ ان سامانوں کی فہرست بنائی جارہی ہے،ان سامانوں میں جو اجودھیامیں سوریا ساحل پر پر واقع نئے گھاٹ کے رام کتھا میوزیم میں رکھنے کے قابل ہوں گے انہیں بہ حفاظت 26مارچ کو رکھا جائےگا۔

انہوں نے بتایا کہ جو سامان خراب ہوں گے ان کو انتظامیہ کمیٹی تفتیش کرنے کے بعد ہی ختم کرے گی۔ان بکسوں کی ویڈیو گرافی بھی کرائی جارہی ہے،جس سے چھوٹے سے چھوٹے سامان بھ ادھر ادھرنہ ہوسکیں ۔  اڈیشنل ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ (سٹی) نے بتایا کہ انتظامیہ کمیٹی کا کام مکمل ہونے کے بعد انتظامیہ کی جانب سے قائم تکنیکی کمیٹی کے ماہر سامانوں کی جانچ کریں گے، اس کے بعد طے ہوگا کہ گمنام بابا کے کن سامانوں کو رام کتھا میوزیم میں رکھا جائے۔

Loading...

واضح رہے کہ فیض آباد کے سول لائن میں واقع رام بھون میں گمنام بابا عرف بھگوان جي کا انتقال 16 ستمبر 1985 کو ہوا تھا۔اس کے بعد ان کے پیروکاروں نے دعوی کیا تھا کہ گمنام بابا ہی نیتا جی سبھاش چندربوس تھے۔اس کی جانچ کے لئے حکومت نے مکھرجی کمیشن کا قیام 2000 میں کیا تھا اور ان کے سامانوں کو خزانے میں رکھنے کے لئے حکم دیا تھا۔

کمیشن اس کی جانچ کافی قریب سے کر رہی تھی۔ اپنی ڈیڈ لائن کے بعد چھ ماہ کا وقت کمیشن نے تحقیقات کے لئے اور مانگا تھا لیکن حکومت نے نہیں دیا تھا، جس سے مکھرجی کمیشن نے ادھوری رپورٹ 2004 میں سونپ دی۔ نیتا جی سبھاش چندربوس کی بھتیجی للیتا بوس نے 1986 میں ہائی کورٹ میں عرضی دائر کر گمنامی بابا کے سامانوں کو خزانے میں محفوظ رکھنے کی کوشش کی تھی۔

اس کے بعد خزانے کے ڈبل لاک میں 31 سال سے رکھا ہوا گمنامی بابا کا سامان خراب ہونے کے خدشہ کے پیش نظر’’ سبھاش چندربوس راشٹریہ وچار کیندر‘‘ کے صدر شکتی سنگھ نے الہ آباد ہائی کورٹ کی لکھنؤ بنچ میں عرضی دائر کی۔ عرضی پر غور کرتے ہوئے کورٹ نے 31 مارچ 2013 کو ان سامانوں کو محفوظ رکھنے کے احکامات جاری کئے۔ اسی حکم کے تحت سامانوں کو خزانہ سے نکال کر رام کتھا میوزیم میں رکھا جائے گا۔

Loading...