بی جے پی میں سوتیلے بیٹےجیسا سلوک ہوا ، دبا ہوا محسوس کرتا تھا ، مگر اب آزادی کا احساس ہورہا ہے: شتروگھن سنہا

مودی حکومت سے متعلق معاملات اٹھانے والے ایک نئے غیر سیاسی محاذ راشٹریہ منچ کے رکن ، سینئر اداکار اور ممبر پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے کہا ہے کہ بی جے پی میں ان کے ساتھ سوتیلے بیٹے جیسا سلوک کیا گیا ہے

Feb 02, 2018 08:34 PM IST | Updated on: Feb 02, 2018 08:34 PM IST
بی جے پی میں سوتیلے بیٹےجیسا سلوک ہوا ، دبا ہوا محسوس کرتا تھا ، مگر اب آزادی کا احساس ہورہا ہے: شتروگھن سنہا

ممبر پارلیمنٹ شتروگھن سنہا ۔ فوٹو : پی ٹی آئی ۔

نئی دہلی : مودی حکومت سے متعلق معاملات اٹھانے والے ایک نئے غیر سیاسی محاذ راشٹریہ  منچ کے رکن ، سینئر اداکار اور ممبر پارلیمنٹ شتروگھن سنہا نے کہا ہے کہ بی جے پی میں ان کے ساتھ سوتیلے بیٹے جیسا سلوک کیا گیا ہے ، انہیں بی جے پی میں دباو محسوس ہوتا تھا ، اب انہیں آزادی کا احساس ہورہا ہے ۔ انہوں نے کہا کہ ہم کچھ بے چین دماغوں میں راشٹریہ منچ کا خیال کام کررہاتھا ، اسے شرمندہ تعبیر کرنے کیلئے انہوں نے گھنشیام تیواری اور کے سی سنگھ کا خاص کر شکریہ ادا کیا۔

شتروگھن سنہا نے کہا کہ راشٹریہ منچ کا حصہ بن کر کھلی ہوا میں سانس لینے جیسا احساس ہورہا ہے ، اس میں شامل ہونے کے بعد میں ملک کی لڑائی کیلئے اپنے خیالات کا آزاد ہوکر اظہار کرسکتا ہوں ، میں بتا نہیں سکتا کہ میں خود کو کتنا آزاد محسوس کررہا ہوں ، کھلی ہوا میں سانس لینے کا مزہ ہی کچھ اور ہے۔

اس سوال کے جواب میں کہ ان کی پارٹی بی جے پی نے انہیں کبھی بھی بولنے سے منع نہیں کیا ، انہوں نے کہا کہ میری بنیادی پارٹی بی جے پی نے مجھے بولنے کے علاوہ کوئی اور کام کرنے نہیں دیا ، مجھے یہ محسوس ہوتا تھا کہ بی جے پی میرے ساتھ سوتیلے بیٹے جیسا سلوک کررہی ہے ، سچ کہوں تو میں دبا دبا محسوس کرتا تھا ، میرے قابل احترام یشونت سنہا جی جب میرے پاس اس غیر سیاسی منچ کا خیال لے کر آئے تو میں نے فورا ہاں کردی ، آپ دیکھئے ہم بی جے پی سے الگ نہیں ہوئے ہیں ، ہم نے اپنی بنیادی پارٹی سے بغاوت نہیں کی ہے ، ہم نے کوئی سرحد نہیں توڑی ہے۔

منچ کے اہداف کے بارے میں پوچھے جانے پر شتروگھن سنہا نے کہا کہ پہلے تو میں آپ کو بتا دوں کہ ہمار کیا ہدف نہیں ہے ۔ راشٹریہ منچ کے تحت کوئی الیکشن نہیں لڑا جائے گا ، اس طرح یہ کوئی سیاسی پارٹی نہیں ہے ، ہمارا مقصد ساتھ مل کر سماج میں اصلاح کرنا ہے ، اس میں ہم اقتصادی اور غریبوں کی ضروریات کے معاملات اٹھائیں گے ، کسانوں کی خودکشی ، بے روزگاری ، سرحد پر اور اندرون ملک سلامتی کے معاملات اٹھائیں گے ، مجھے لگتا ہے کہ فلم پدماوت جیسے غیر ضروری معاملات پر زیادہ توجہ دینے سے دیگر اہم معاملات سے توجہ ہٹ جاتی ہے ، پدماوت تنازع بالکل بے معنی ہے ۔

Loading...

Loading...