ملائم سنگھ نے بابری مسجد کو نہیں بچایا ہوتا تو دوسرا پاکستان بن جاتا: شیوپال

شپوپال یادو نے کہا کہ اگر نیتاجی ملائم سنگھ نے 1990 میں بابری مسجد کو نہیں بچایا ہوتا تو شاید ہی سیکولرزم بچتا اور ہو سکتا ہے کہ تب کوئی دوسرا پاکستان تیار ہو جاتا۔

Jan 23, 2019 11:59 AM IST | Updated on: Jan 23, 2019 11:59 AM IST
ملائم سنگھ نے بابری مسجد کو نہیں بچایا ہوتا تو دوسرا پاکستان بن جاتا: شیوپال

پرگتی شیل سماجوادی پارٹی کے صدر شیوپال یادو: فائل فوٹو۔

پرگتی شیل سماجوادی پارٹی کے صدر شیوپال یادو نے ایک بڑا بیان دیا ہے۔ شپوپال یادو نے کہا کہ اگر نیتاجی ملائم سنگھ نے 1990 میں بابری مسجد کو نہیں بچایا ہوتا تو شاید ہی سیکولرزم بچتا اور ہو سکتا ہے کہ تب کوئی دوسرا پاکستان تیار ہو جاتا۔ وہیں، اکھلیش اور مایاوتی پر طنز کستے ہوئے ایس پی۔ بی ایس پی گٹھ بندھن کو ’ ٹھگ بندھن‘ بتایا۔ انہوں نے کہا کہ ایک نے باپ کو دھوکہ دیا اور دوسرے نے بھائی بنا کر لال جی ٹنڈن کو دھوکہ دیا۔

شیوپال یادو مین پوری میں منگل کو ایک پروگرام میں شرکت کے لئے پہنچے تھے۔ شیوپال نے پروفیسر رام گوپال یادو کی بھی تنقید کرتے ہوئے کہا کہ میں ان سے پوچھتا ہوں کہ پروفیسر کیا ایسے ہی ہوتے ہیں۔ شیوپال نے ایس پی۔ بی ایس پی دونوں ہی پارٹیوں کے سربراہوں کے بارے میں کہا کہ انہیں دھوکہ دینے کی عادت ہے۔ کیونکہ ایک نے اپنے والد اور چچا کو دھوکہ دیا جبکہ دوسرے نے اپنے بھائی کو۔

Loading...

انہوں نے کہا، "ہم سیکولر جماعتوں کے ساتھ اتحاد کی بات کر رہے ہیں جسے جلد ہی آپ کو بتایا جائے گا۔" شیوپال یادو نے دعوی کیا کہ پرگتی شیل سماجوادی پارٹی (لوہیا) ریاست میں بہت مضبوطی کے ساتھ ابھر رہی ہے اور لوگ اس کی حمایت کر رہے ہیں۔ صرف ہماری ہی پارٹی بی جے پی سے مقابلہ کر سکتی ہے۔

یہ بھی پڑھیں: بابری مسجد کی جگہ پررام مندرکی تعمیر نہیں کی جاسکتی: شیو پال یادو

Loading...