شیوپال یادو نے ملائم سنگھ کو دی دو دن کی مہلت، پارٹی سے متعلق دو دن کے اندرلیں فیصلہ

ملائم سنگھ یادو کے لئے یہ وقت انتہائی مشکل ہے کیونکہ اگروہ کھل کرکسی کی حمایت کرتے ہیں تو دوسری طرف سے پارٹی کا ہی نقصان ہوگا۔

Aug 31, 2018 02:50 PM IST | Updated on: Aug 31, 2018 03:49 PM IST
شیوپال یادو نے ملائم سنگھ کو دی دو دن کی مہلت، پارٹی سے متعلق دو دن کے اندرلیں فیصلہ

ملائم سنگھ یادو اور شیوپال یادو: فائل فوٹو

اترپردیش کے سب سے بڑی سیاسی یادوخاندان میں ایک بارپھرآپسی رسہ کشی شروع ہوگئی ہے۔ پہلی بارسماجوادی پارٹی کی کمان کو لے کراختلاف کی صورتحال پیدا ہوئی تھی۔ موجودہ تنازعہ پارٹی میں رسوخ کو لے کرشروع ہوا ہے۔ شیوپال یادو نے اپنے بڑے بھائی اوراکھلیش یادو کے والد ملائم سنگھ یادوکو دو دن میں کوئی فیصلہ لینے کی مہلت دی ہے۔

ملائم سنگھ یادواورشیوپال یادو نے پارٹی میں عزت اوراحترام نہ ملنے کو لے کراپنے درد کااظہارکیا تھا۔ اس کے ٹھیک بعد ہی سماجوادی سیکولرمورچہ کا تنازعہ سامنے آگیا۔ ذرائع کے مطابق شیوپال یادوکومنانے کی تمام کوشش ناکام ہوچکی ہے۔ پارٹی صدراکھلیش یادو بھی اپنی بات پرقائم ہیں، وہ وقت آنے پرشیوپال یادو کوکوئی عہدہ دینے کی بات کررہے ہیں۔

Loading...

وہیں کئی مواقع پرشیوپال دوبارہ ملائم سنگھ یادوکو قومی صدربنائے جانے کی بات پرسب کچھ ٹھیک ہوجانے کی بات کہہ چکے ہیں، لیکن بڑی بات یہ ہے کہ 2016 سے لے کرحالیہ تنازعہ تک ملائم سنگھ کا رخ واضح نہیں ہوا ہے۔ کسی بھی موقع پرانہوں نے نہ تواکھلیش یادو کی حمایت میں کوئی اشارہ دیا اورنہ ہی کبھی شیوپال یادو کے لئے کھل کر بولے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ شیوپال یادو اس بارآرپار کی لڑائی کے موڈ میں ہیں۔ ملائم سنگھ اپنی حالت جمعہ اورہفتہ تک واضح کردیں۔ یہ اشارہ بھی شیوپال دے چکے ہیں۔  انہیں وجوہات کے سبب انہوں نے لکھنواورسیفئی چھوڑ کر دہلی میں اپنا ٹھکانہ بنالیا ہے۔ حالانکہ وہ آج مظفرنگرمیں ایک پروگرام میں شرکت کررہے ہیں۔ ذرائع کے مطابق ملائم سنگھ کی ہاں- نا پرمنحصررہنے والے ایک بڑے پروگرام کی تیاری سیفئی میں چل رہی ہے۔

پروگرام شیوپال یادو کے استقبالیہ تقریب کی تیاری کے طورپر کی جارہی ہے۔ اسے شیوپال یادوکی طاقت آزمائی کے طور پرمانا جارہا ہے۔ ڈاکٹر بی آرامبیڈکریونیورسٹی، آگرہ میں پروفیسراورسیاست کے ماہرمحمد ارشد کا کہنا ہے کہ ملائم سنگھ اگر کسی کے بھی حق میں بولتے ہیں، تو اس سے نقصان پارٹی کو ہی ہوگا۔

ملائم سنگھ یادو اگراکھلیش کی حمایت میں جاتے ہیں تو شیوپال یادو خاندان سے پوری طرح  آزاد ہوجائیں گے اورکھل کرفیصلہ لینے کے لئے آزاد ہوں گے۔ وہیں اگربیٹے کا ساتھ نہیں دیں گے توسماجوادی کمزورپڑجائے گی اورمخالفین کے ہاتھ اکھلیش یاد وکوگھیرنے کا نیا ہتھیارمل جائے گا۔

واضح رہے کہ دسمبر 2016 سے فروری 2017 تک یادو خاندان کا تنازعہ پارٹ -1 شروع ہوگیا تھا۔ سمجھا جاتا ہے کہ اس تنازعہ کی وجہ سے سماجوادی پارٹی کو یوپی اسمبلی الیکشن میں زبردست نقصان ہوا، اس لئے پورا یادو خاندان چاہتا ہے کہ تنازعہ کا پارٹ -2 اتنا زیادہ نہ بڑھ جائے کہ اس کی قیمت 2019 کے لوک سبھا الیکشن میں بھی بھگتنا پڑے۔

Loading...