سدھو نے جم کر نکالی بھڑاس، کہا پنجاب سے دور رہنے کو کہا گیا تھا، اس لئے دیا استعفیٰ

سدھو نے بی جے پی اعلی کمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجاب چھوڑنے کو کہا گیا تھا لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔

Jul 25, 2016 12:37 PM IST | Updated on: Jul 25, 2016 12:38 PM IST
سدھو نے جم کر نکالی بھڑاس، کہا پنجاب سے دور رہنے کو کہا گیا تھا، اس لئے دیا استعفیٰ

نئی دہلی۔ بی جے پی کی راجیہ سبھا کی رکنیت سے استعفی دینے والے نوجوت سنگھ سدھو نے آج جم کر اپنی بھڑاس نکالی۔ سدھو نے بی جے پی اعلی کمان کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ انہیں پنجاب چھوڑنے کو کہا گیا تھا لیکن انہوں نے اس سے انکار کر دیا۔

پریس کانفرنس میں سدھو نے اپنے انداز میں کہا کہ میں نے اس لیے استعفی دیا کیونکہ مجھے پنجاب سے دور رہنے کو کہا گیا تھا۔ میں پنجاب سے کیسے دور رہ سکتا ہوں۔ میں اپنی جڑیں نہیں چھوڑ سکتا۔ دنیا کی کوئی پارٹی پنجاب سے اوپر نہیں ہے۔ میں کسی بھی طرح کا نقصان جھیلنے کو تیار ہوں۔

Loading...

سدھو نے کہا کہ میں نے مسلسل 4 انتخابات جیتے اور مجھے پنجاب چھوڑنے کو کہا گیا۔ کیوں، کیا میں نے کچھ غلط کیا تھا۔ ایسا پہلی بار نہیں ہوا، میرے ساتھ یہ تین بار ہوا۔ لوک سبھا انتخابات کے دوران مجھے ویسٹ دہلی یا کروکشیتر سے لڑنے کو کہا گیا تھا، لیکن میں نے پنجاب چھوڑنے سے انکار کر دیا۔

تاہم میڈیا سے بات چیت کے دوران سدھو نے عام آدمی پارٹی میں شامل ہونے کے سوال کا جواب نہیں دیا۔ ساتھ ہی انہوں نے بی جے پی چھوڑنے کا بھی اعلان نہیں کیا۔ سدھو نے کہا کہ وہیں جاؤں گا جہاں پنجاب کا مفاد ہو گا۔ سدھو نے یہ بھی کہا کہ مودی لہر میں بی جے پی نے سدھو کو ڈبو دیا۔

Loading...