جموں وکشمیر: آرٹیکل 35 اے کی سماعت سے قبل اننت ناگ میں پتھربازی، علاقہ میں کشیدگی

جموں وکشمیر کے اننت ناگ سیکٹر کے لال چوک پر مظاہرین پتھربازی کر رہے ہیں۔

Aug 27, 2018 01:49 PM IST | Updated on: Aug 27, 2018 01:49 PM IST
جموں وکشمیر: آرٹیکل 35 اے کی سماعت سے قبل اننت ناگ میں پتھربازی، علاقہ میں کشیدگی

فائل فوٹو: اے پی

سپریم کورٹ میں آج یعنی پیر کو جموں وکشمیر کو خصوصی اختیارات دینے والے آرٹیکل 35 اے کے جواز کو چیلنج دینے والی عرضی پر اہم سماعت سے پہلے جموں و کشمیر کے حالات کشیدہ ہو گئے ہیں۔ جموں وکشمیر کے اننت ناگ سیکٹر کے لال چوک پر مظاہرین پتھربازی کر رہے ہیں۔ سلامتی دستوں نے پورے علاقہ کو گھیر لیا ہے اور مظاہرین کو وہاں سے ہٹانے کی کوشش جاری ہے۔

 چیف جسٹس دیپک مشرا کی زیر صدارت تین رکنی بینچ اشونی اپادھیائے کی طرف سے دائر عرضی پر آج سماعت کرنے جا رہی ہے۔ سپریم کورٹ اس آرٹیکل کو منسوخ کرنے کی مانگ کو لے کر دائر کئی عرضیوں پر پہلے سے ہی سماعت کر رہا ہے۔

درخواست میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ آرٹیکل 35 اے منمانہ اور بنیادی حقوق کے خلاف ہے کیونکہ یہ ایسی عورتوں کے حقوق کی خلاف ورزی کرتا ہے جو اپنی مرضی اور ریاست کے باہر کے افراد سے شادی کرتی ہیں۔

کیا ہے آرٹیکل 35  اے

Loading...

آرٹیکل  35 اے کے تحت جموں و کشمیر میں رہنے والے شہریوں کو خصوصی حقوق دیئے گئے ہیں۔ ساتھ ہی ریاستی حکومت کو بھی یہ اختیار حاصل ہے کہ آزادی کے وقت وہ کسی پناہ گزین کو سہولت دے یا نہیں۔  وہ کسے اپنا مستقل رہائشی مانے اور کسے نہیں۔

دراصل، جموں و کشمیر کی حکومت ان لوگوں کو مستقل رہائشی مانتی ہے جو 14 مئی، 1954 سے پہلے کشمیر میں آباد تھے۔

اس قانون کے تحت جموں اور کشمیر کے باہر کا کوئی بھی شخص ریاست میں نہ تو جائیداد (زمین) خرید سکتا ہے اور نہ ہی وہ یہاں آباد ہو سکتا ہے۔ اس کے علاوہ یہاں کسی بھی بیرونی شخص کے سرکاری ملازمت کرنے پر پابندی ہے نہ ہی وہ حکومت کی طرف سے جاری منصوبوں سے فائدہ اٹھا سکتا ہے۔

جموں وکشمیر میں رہنے والی لڑکی اگر کسی باہری شخص سے شادی کرتی ہے تو اس سے ریاست کی طرف سے ملے خصوصی اختیارات چھین لئے جاتے ہیں ۔ اتنا ہی نہیں، اس کے بچے بھی حق کی لڑائی نہیں لڑ سکتے۔

Loading...