جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے قیام کے مقاصدکی تکمیل کے لئے کوشاں : پروفیسر طلعت احمد

ڈاکٹر طلعت احمد نے کہا کہ 2019میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا جشن صدسالہ نہایت تزک احتشام سے منایا جائے گا اور اس موقع ویژن ڈاکومنٹ جاری جائے گا جس کی تیاری چل رہی ہے

Jul 24, 2016 04:39 PM IST | Updated on: Jul 24, 2016 04:39 PM IST
جامعہ ملیہ اسلامیہ اپنے قیام کے مقاصدکی تکمیل کے لئے کوشاں : پروفیسر طلعت احمد

نئی دہلی : جامعہ ملیہ اسلامیہ میں ملک و ملت کی امنگ اور آرزو کی تکمیل کے مقصد سے اپنی پوری توجہ تعلیم کے بہتر ماحول، طلباء کی صلاحیتوں کو نکھارنے، ان میں تعمیری بحث و مباحثہ کا جذبہ بیدار کرنے اور تحقیق کے لئے فضا سازگار کرنے پر دی جارہی ہے۔ یہ بات جامعہ ملیہ اسلامیہ کے وائس چانسلر پروفیسر طلعت احمد نے کہی۔ ڈاکٹر طلعت احمد نے کہا کہ 2019میں جامعہ ملیہ اسلامیہ کا جشن صدسالہ نہایت تزک احتشام سے منایا جائے گا اور اس موقع ویژن ڈاکومنٹ جاری جائے گا جس کی تیاری چل رہی ہے۔ جس میں جامعہ کی حصولیابی اور آئندہ کے عزائم ظاہر کیا جائے گا۔

یو این آئی سے خصوصی بات چیت میں انہوں نے کہاکہ ہم طلبہ، اساتذہ،جامعہ کے اہلکاردوسرے خیرخواہوں کی مدد سے جامعہ ملیہ اسلامیہ کو ان مقاصد کی طرف لے جانا چاہتے ہیں جن کے لئے اس ادارہ کا قیام عمل میں آیا تھا اورجس کے لئے ہمارے اسلاف نے قربانی دی تھی۔انہوں نے جامعہ کی حصولیابی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جہاں جامعہ کو تمام شعبہائے حیات بہترین کارکردگی کے اعزازات مل رہے ہیں وہیں صدر جمہوریہ کا ایوارڈ بھی مل چکا ہے۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں طلبہ کے لئے ایک کھلا پلیٹ فارم مہیا کرنے کے سوال کے جواب مسٹر انہوں نے کہاکہ ہم اس سلسلے میں کوشاں ہیں اور چاہتے ہیں کہ طلبہ کے درمیان کھلا پن آئے اور آپس میں تعمیری بحث و مباحثہ کا ماحول قائم ہو اس کے لئے انہوں نے کئی لیکچر کا انعقاد بھی کیا ہے جس میں مشہور مورخ پروفیسر پرمیلا تھاپر، بھارت رتن پروفیسر سی این آر راؤ، ڈاکٹر آنند کمار، پروفیسر اروند سرامنیم چیف اقتصادی مشیر اور دیگر سرکردہ شخصیات کو مدعوکیا گیا ہے اور آئندہ ایس وائی قریشی اور سعید نقوی اور اس طرح کے دیگر دانشوروں کو لیکچر کے لئے مدعو کیا جائے گا تاکہ طلبہ میں ریسرچ، تعلیم و تعلم، سول و جواب اور بحث و مباحثہ کا ماحول پیدا ہو۔

انہوں نے کہاکہ جامعہ ملیہ اسلامیہ اس وقت ماس کمونی کیشن ، فائن آرٹ اور لاء کے معاملے میں بھی سرفہرست ہے۔اسی کے ساتھ یہاں کے انجینئر نگ کالج کو ڈی ایس ٹی سے پروگرام ملا ہے ، جامعہ کے پاس اس کی صلاحیت پہلے سے تھی لیکن اس پر اب تک توجہ نہیں دی گئی تھی۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ میں لڑکیوں اور لڑکوں کے ہوسٹل کی کمی طرف توجہ دلائے جانے پر انہوں نے کہاکہ جامعہ اس سمت کام کر ررہی ہے اور چار سو بیڈ کا لڑکیوں کا ہاسٹل (دارالاقَامہ) کی تعمیر شرو ع کرائی گئی ہے اور لڑکوں کا ہاسٹل بھی تعمیر کرنے کی امید ہے۔

Loading...

انہوں نے کہاکہ گیان (گلوبل انیشٹیو آن اکیڈمک نیٹ ورک) کے تحت دوسری یونیورسٹی میں کو جامعہ میں موقع دیاگیا ہے۔ اس کے علاوہ جامعہ کو یونیورسٹی گرانٹ کمیشن کے تحت بہت سارے پروگرام ملے ہیں۔ ان کی کوشش ہے کہ یوجی سی کی اسکیم سے جامعہ کو زیادہ سے زیادہ مستفید کیا جائے ۔ انہوں نے کہاکہ گزشتہ دو برسوں کے دوران جامعہ کے تقٖسیم اسناد کے جلسے میں صدر جمہوریہ پرنب مکھرجی، اس وقت کی وزیر تعلیم اسمرتی ایرانی اور پروفیسر گوردھن مہتہ جیسی اہم شخصیتیں تشریف لاچکی ہیں۔

جامعہ میں اصلاحات سے متعلق سوالات میں انہوں نے کہاکہ بڑ ے پیمانے پر اصلاحات کی گئیں اور تمام چیزیں آن لائن کردی گئی ہیں۔ ہر طرح کے کورسیز میں داخلے آن لائن ہوگئے ہیں اور تمام چیزوں کی اطلاعات ویب سائٹ پر دستیاب ہیں۔ دہلی کے علاوہ چھ نئے سنٹًر کھولے گئے ہیں۔ فاصلاتی تعلیم اسکیم کے تحت 70 سنٹر کام کر رہے ہیں۔

جامعہ میں میڈیکل کالج کے قیام سے متعلق سوال کے جواب مسٹر احمد نے کہا کہ زمین کا معاملہ فی الحال میں عدالت میں ہے اور جیسے ہی زمین کا معاملہ حل ہوگا میڈیکل کالج کے قیام کی سمت میں کوشش شروع کردی جائے ۔ البتہ یونانی میڈیسن کے سلسلے میں پیش رفت ہوئی ہے اور انصاری ہیلتھ سنٹر میں یونانی او پی ڈی شروع کرائی گئی ہے اور اسی کے ساتھ وزارت آیوش کے ساتھ یادداشت مفاہمت کی روشنی میں یونانی طب کی پڑھائی شروع ہوجائے گی۔

جامعہ ملیہ اسلامیہ میں نئے کورسز شروع کئے جانے کے حوالے وائس چانسلر ڈاکٹر طلعت احمد نے کہاکہ گزستہ دو برسوں کے دوران پندرہ نئے کورسیز شروع کئے گئے ہیں۔ جن میں ایم اے جینڈر اسٹیڈیز، ایم ایس سی بائیوفزکس،ایم اے پولٹیکل انٹرنیشنل اینڈ ایر اسٹڈیز،ایم اے عرب اسلامک کلچر، ایم ٹیک کمپیوٹر انجینئر،پی ایچ ڈی ان آرٹ ہسٹری وغیرہ اہم کورسیز ہیں۔ اس کے علاوہ 2016-17سے ایک نیا شعبہ ’سنسکرت‘ بھی کھولایا گیا ہے۔ اسی کے ساتھ حالات کے تقاضے کے تحت ڈیزاسٹر منیجمنٹ کا شعبہ بھی کھولا گیا ہے۔

ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ حکومت کی طرف سے انہیں بھرپور تعاون ملا ہے اور دوسری یونیورسٹیوں کے مقابلے میں جامعہ کو فنڈ بہتر ملا ہے ، ہمارے ساتھ کسی طرح کی کوئی تفریق نہیں کی گئی ہے، یونیورسٹی کے اساتذہ اور ملازمین کافی خوش ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جامعہ میں خالی جگہوں کو پر کیا گیا ہے اور اس وقت تمام سنٹرل یونیورسٹیز میں جامعہ واحد ایسی یونیورسٹی ہے جہاں بہت کم جگہ خالی ہے اور اس کے ساتھ ہی ملازمت کے پرانے زیر التوا معاملات نمٹائے گئے ہیں۔ جامعہ ملیہ اسلامیہ کی ترقی میں جامعہ کے اولڈ بوائز سے مدد حاصل کرنے کے ضمن میں پوچھے گئے ایک سوال کے جواب میں مسٹر وائس چانسلر نے کہا کہ اس سلسلے میں پیش رفت جاری ہے اور ہم جلد ہی جامعہ گلوبل الومنائی نیٹ ورک قائم کرنے جارہے ہیں تاکہ ملک و بیرون جامعہ اپنے اولڈ بوائز سے منسلک ہوسکے گی۔ انہوں نے کہاکہ جامعہ کے بھوپال گراؤنڈ کا نام نواب منصور علی خاں بپٹوی کے نام سے کیا گیا ہے جس کا افتتاح آنجہانی کی اہلیہ محترمہ شرمیلا ٹیگور نے کیا تھا۔ اسی کے ساتھ اس میں ایک پویلین کا نام ویریندر سہواگ رکھا گیا ہے۔

انہوں نے کہاکہ جامعہ کے فارغین نوکری حاصل کرنے کے سلسلے میں کسی سے پیچھے نہیں ہیں اور گزشتہ د نوں 380 طلبہ کو کیمپس سلیکشن میں نوکری دی گئی۔ اس کے علاوہ جامعہ کے کیریر گائڈنس کے تحت اب تک 46طلبہ سول سروس کے لئے منخب ہوچکے ہیں۔

Loading...