قوم کی بھلائی کے لئے دیوبندیوں اور بریلویوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی : مولانا توقیر رضا خاں

بارہ بنکی : قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مسلمانوں کے دو سب سے زیادہ بااثر اور ایک دوسرے کے مخالف مانے جانے والے دیوبندی اور بریلوی مسلکوں کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایک کامن مینی مم پروگرام بنانے کی پہل کی گئی ہے۔

May 26, 2016 10:26 AM IST | Updated on: May 26, 2016 10:26 AM IST
قوم کی بھلائی کے لئے دیوبندیوں اور بریلویوں کو ایک پلیٹ فارم پر لانے کی کوشش کی : مولانا توقیر رضا خاں

بارہ بنکی : قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے مسلمانوں کے دو سب سے زیادہ بااثر اور ایک دوسرے کے مخالف مانے جانے والے دیوبندی اور بریلوی مسلکوں کے لوگوں کو ایک پلیٹ فارم پر لا کر ایک کامن مینی مم پروگرام بنانے کی پہل کی گئی ہے۔

بریلوی مسلک کے با اثر رہنما مانے جانے والے مولانا توقیر رضا خاں نے ٹیلیفون پر یو این آئی اردوکو بتایا کہ گزشتہ دنوں انہوں نے دیوبند میں دو مسلمان لڑکوں کی دہشت گردی کے الزام میں گرفتاری کے بعد دارالعلوم دیوبند جاکر بریلوی اور دیوبندی مسلک کے لوگوں کو اپنے اپنے عقیدہ پر قائم رہتے ہوئے متحد ہونے کی پیشکش کی تھی۔

مسٹرخاں کا کہنا ہے کہ دیوبند کے ذمہ دار لوگوں نے ان کی اس کوشش تعریف کرتے ہوئے ان کا ساتھ دینے کی یقین دہانی کرائی ہے۔ مسٹر توقیر خاں نے دیوبند جانے کے مقصد کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہ کسی سیاسی مقصد کے تحت دیوبند نہیں گئے تھے بلکہ انہیں معلوم ہوا ہے کہ آر ایس ایس نے ہندوؤں کو مسلمانوں سے لڑانے کے بجائے مسلمانوں کو مسلمانوں سے لڑانے کی سازش رچی ہے۔ایسے میں قوم کی بھلائی کے لئے تمام مسلمانوں کو اپنے اختلافات بھلا کر ایک پلیٹ فارم پر آنا چاہئے۔

تاہم دارالعلوم دیوبند کا کہنا ہے کہ اگر ایک فرد کے بجائے پورے بریلوی مسلک کے لوگ دیوبندیوں کے ساتھ یکجہتی کی طرف بڑھے تو اچھا رہے گا۔ دارالعلوم دیوبند کے مہتمم مولانا عبدالقاسم نعمانی نے کہا کہ توقیر رضا خاں نے دیوبندجاکربریلوی اور دیوبندی مسلک کے لوگوں کو مسلم قوم کی تمام مشکلات کو سلجھانے کے لئے ایک پلیٹ فارم پر آنے کی پیشکش کی تھی۔

Loading...

مولانا نے کہا کہ چوں کہ دارالعلوم دیوبند ایک تعلیمی ادارہ ہے، اس لئے انہوں نے اس پیشکش کو دیوبندیوں کی سماجی تنظیم جمعیت علماء ہند کے سامنے رکھ دیا ہے، وہی اس پر کوئی فیصلہ کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ دیوبند قوم کے مسائل کو حل کرنے کے لئے بہت پہلے سے بریلوی مسلک کے لوگوں کے ساتھ کام کرنے کا خواہش مند رہا ہے اور اس کے تمام جلسوں میں بریلوی مسلک کے علما کو بھی دعوت دی جاتی رہی ہے۔ بہرحال مولانا توقیر کی پیشکش پر دیوبند کا رخ مثبت رہاہے۔

مسٹرخاں نے کہا کہ ان کی کوشش ہے کہ جون کے پہلے ہفتے سے شروع ہونے والے رمضان سے قبل دیوبندی اور بریلوی مسلک کے لوگ بیٹھک کرکے ایک کامن منمم ایجنڈا تیار کر لیں۔ ایجنڈے میں یہ طے کیا جائے گا کن کن معاملات کو لے کر دونوں مسلک کے لوگ ایک ساتھ چلیں گے۔ اگرچہ دونوں مسلکوں کی اپنی اپنی مساجد اور ادارے اپنی جگہ قائم رہیں گے۔

Loading...