اب کانپور کے دیہی علاقوں میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی خیر نہیں

اب کانپور کے دیہی علاقوں میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی خیر نہیں ہے ۔ کیونکہ اب پورے دیہی علاقے میں ڈرون سے نظر رکھی جائے گی، جس کے لئے دیہات میں ٹرائل بھی شروع کردیا گیا ہے۔

Aug 17, 2016 06:11 PM IST | Updated on: Aug 17, 2016 06:11 PM IST
اب کانپور کے دیہی علاقوں میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی خیر نہیں

کانپور (شیام تیواری) اب کانپور کے دیہی علاقوں میں کھلے میں رفع حاجت کرنے والوں کی خیر نہیں ہے ۔ کیونکہ اب پورے دیہی علاقے میں ڈرون سے نظر رکھی جائے گی، جس کے لئے دیہات میں ٹرائل بھی شروع کردیا گیا ہے۔ ساتھ ہی ساتھ کھلے میں گندگی کر نے والوں کو ملنے والی سرکاری سہولیات بھی بند کر دی جائیں گی۔

کانپور میں انتظامیہ نے ضلع کوصاف ستھرا بنانے کا فیصلہ کیا ہے، جس کی وجہ سے سب سے پہلے گنگا کنارے کے 456 دیہات کو منتخب کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 310 دیہات میں اس اسکیم کو نافذ کیا جا رہا ہے، جس کے تحت دیہات میں ٹوائلٹ بنوائے جا رہے ہیں۔ وہیں دیہات میں لوگوں کو کھلے میں رفع حاجت سے روکنے کے لئے کی نگراںکمیٹیاں بھی تشکیل دی گئی ہیں، جو لوگوں کو کھلے میں جانے سے روکنے کے ساتھ ساتھ انہیں اس سے ہونے والے نقصانات کے بارے میں بیدار بھی کررہی ہیں۔ علاوہ ازیں کانپور انتظامیہ نے ڈرون کیمرے کے ذریعہ کھلے میں حاجت کو جانے والوں کی نگرانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جس کا ٹرائل بھی شروع ہو گیا ہے۔ گاؤں میں ڈرون کیمرے سے صبح سے شام تک نگرانی کی جارہی ہے ۔

کانپور انتظامیہ کی یہ پہل قابل ستائش تو ہے ، لیکن جرمانے سے قبل انتظامیہ کی ترجیح تمام گھروں میں بیت الخلا بنوانے کی ہونی چاہئے۔ بہر حال کھلے میں حاجت کو جانے والوں کی ڈرون نگرانی کے معاملے میں کانپور یوپی کا پہلا ضلع بن گیا ہے۔ امید یہی کی جانی چاہئے کی انتظامیہ اپنی کوششوں میں کامیاب ہو جائے اور وزیر اعظم مودی کے سووچھ بھارت کا خواب شرمندہ تعبیر ہو۔ کیونکہ کانپوراس معاملے میں دیگر اضلاع کے لئے رول ماڈل بن سکتا ہے۔

Loading...

Loading...