ہریانہ : جمعہ کی نماز ادا کرکے لوٹ رہے کشمیر کے دو طالب علموں پر حملہ ، کیس درج ، جانچ شروع

ہریانہ کے مہیندر گڑھ ضلع میں ہریانہ یونیورسٹی کے دو کشمیری طلب علموں پر حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے اس معاملہ پر محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہے

Feb 03, 2018 09:41 AM IST | Updated on: Feb 03, 2018 09:41 AM IST
ہریانہ : جمعہ کی نماز ادا کرکے لوٹ رہے کشمیر کے دو طالب علموں پر حملہ ، کیس درج ، جانچ شروع

چندی گڑھ : ہریانہ کے مہیندر گڑھ ضلع میں ہریانہ یونیورسٹی کے دو کشمیری طلب علموں پر حملے کا معاملہ سامنے آیا ہے ۔ وزیر اعلی منوہر لال کھٹر نے اس معاملہ پر محکمہ داخلہ سے رپورٹ طلب کی ہے اور ریاست کے ڈی جی پی کو اس معاملہ میں سخت کارروائی کرنے کی ہدایت دی ہے ۔  متاثرہ طالب علم جاوید اقبال کا الزام ہے کہ جمعہ کی نماز ادا کرنے کے بعد لوٹ رہے تھے ، تبھی ان پر کچھ لوگوں نے حملہ کردیا ۔ طالب علم کے چہرے ، ہاتھ اور پیروں پر کافی چوٹیں آئی ہیں ۔

جاوید نے ٹویٹ کرکے اس کی شکایت جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی ، وزیر داخلہ راجناتھ سنگھ اور جموں و کشمیر پولیس سے کی ہے ۔ ہریانہ پولیس نے اس سلسلہ میں معاملہ درج کرکے جانچ شروع کردی ہے ۔ طالب علموں کو واقعہ کے بعد فوری طور پر نزدیک کے ایک سرکاری اسپتال میں داخل کرایا گیا ، جہاں ابتدائی علاج کے بعد انہیں ڈسچارج کردیا گیا ۔

Loading...

جاوید نے ٹویٹ کرکے بتایا کہ وہ نماز ادا کرنے کیلئے اپنے دوستوں کے ساتھ یونیورسٹی کیمپس سے باہر گیا تھا ۔ اسی دوران کچھ مقامی غنڈوں نے ان کی پٹائی کردی ۔ جاوید کے ٹویٹ پرجموں و کشمیر پولیس نے بھی نوٹس لیا ہے ۔ کشمیر پولیس افسر شیش پال وید نے بتایا کہ وہ ہریانہ ڈی جی پی کے رابطے میں ہیں اور وہاں کی پولیس نے اس معاملہ کا نوٹس لیا ہے۔

طالب علموں کے ساتھیوں نے کہا کہ پولیس پہلے ان کی شکایت درج نہیں کررہی تھی ، لیکن پراکٹر کی مداخلت کے بعد کیس درج کرلیا گیا ۔ پولیس نے اس معاملہ میں آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت کیس درج کیا گیا ہے ۔ مہندر گڑھ کے ڈی ایس پی کا کہنا ہے کہ اس معاملے کے پیچھے کشمیر فیکٹر نہیں ہے ۔ طلبہ پر ان کے کشمیری ہونے کی وجہ سے حملہ نہیں ہوا ہے۔ ادھر جموں و کشمیر کی وزیر اعلی محبوبہ مفتی نے ہریانہ کے وزیر اعلی منوہر لال کھٹر کو ٹیگ کرتے ہوئے ٹویٹ کیا کہ ہریانہ کے مہندر گڑھ میں کشمیری طالب علموں کی پٹائی کی خبر سن کر بے حد صدمے میں ہوں ، میں انتظامیہ سے درخواست کروں گی کہ وہ اس معاملہ کی جانچ کریں اور قصور واروں کے خلاف سخت کارروائی کریں ۔

دریں اثنا جموں و کشمیر کے سابق وزیر اعلی اور نیشنل کانفرنس کے لیڈر عمر عبد اللہ نے اس معاملہ کی سخت مذمت کی ہے۔ عمر عبداللہ نے ٹویٹ کرکے لکھا کہ یہ ڈراونا ہے ، لال قعلہ سے وزیر اعظم مودی نے جو کہا تھا اس کے خلاف ہے ، میں امید کرتا ہوں کہ ہریانہ انتطامیہ اس تشدد کے خلاف فوری کارروائی کرے گی۔

Loading...