علماء دیوبند نےسعودی عرب کی خواتین کے کاروبار کرنے کے فیصلے پرکیاخوشی کا اظہار

عورت کو کیسے چلنا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے ۔ ایسے چھوٹے چھوٹے معاملوں پر فتووں کے لیے تنقید کا نشانہ بنتے رہنے والے داالعلوم دیو بند نے اب اپنی سوچ وقت کے ساتھ بدلنے کا شائد فیصلہ کیا ہے۔ اس کی بانگی اس وقت دیکھنے کو ملی جب دیوبند کے علما نے سعودی عرب کے عورتون کے کاروبار کرنے کے فیصلے پر لببیک کہا ہے ۔

Feb 21, 2018 08:58 PM IST | Updated on: Feb 21, 2018 09:15 PM IST
علماء دیوبند نےسعودی عرب کی خواتین کے کاروبار کرنے کے فیصلے پرکیاخوشی کا اظہار

داالعلوم دیو بند نے اب اپنی سوچ وقت کے ساتھ بدلنے کا شائد فیصلہ کیا ہے۔

میرٹھ۔عورت کو کیسے چلنا ہے، کیا کھانا ہے، کیا پہننا ہے ۔ ایسے چھوٹے چھوٹے معاملوں پر فتووں کے لیے تنقید کا نشانہ بنتے رہنے والے داالعلوم دیو بند نے اب اپنی سوچ وقت کے ساتھ بدلنے کا شائد فیصلہ کیا ہے۔ اس کی بانگی اس وقت دیکھنے کو ملی جب دیوبند کے علما نے سعودی عرب کی خواتین کے کاروبار کرنے کے فیصلے پر لببیک کہا ہے ۔

سعودی عرب جیسے قدامت پسند ملک میں حکومت کے کئی فیصلے ان دنوں دنیا بھر میں چرچہ کا موضوع ہیں ۔ خاص طور پر خواتین کے حوالے سے لئے گئے کچھ فیصلوں کو نئے سعودی نظام کےتعلق سے بھی دیکھا جا رہا ہے ۔

Loading...

سعودی حکومت کے ایسے ہی ایک فیصلے کی علماء دیوبند  نے بھی تائید کرتے ہوئے وضاحت کی ہے۔ سعودی حکومت کے اس نئے فیصلے کا تعلق سعودی عرب میں خواتین کے تجارت کرنے کی اجازت سے ہے۔ سعودی حکومت کے کچھ فیصلے پر نااتفاقی کا اظہار کرنے والے علماء دیوبند نے سعودی حکومت کےاس فیصلے کی تائید کی ہے ۔ وہیں سعودی میں تازہ خبر ہے کہ وہاں جلد خواتین کا فیشن شو حکومت کی اجازت سے ہو رہا ہے ۔  اب دیکھنا یہ ہوگا کہ اس پر علما کیا بیان دیتے ہیں ۔

Loading...