بجٹ 2019: جی ایس ٹی وصولی میں ہدف سے پیچھے ہے حکومت، مالی خسارہ کی کیسے ہو گی بھرپائی؟

اس سال حکومت کے سامنے بڑا چیلنج یہ ہے کہ حکومت کی جی ایس ٹی وصولی کا ہدف ناقص رہا ہے

Jan 17, 2019 05:35 PM IST | Updated on: Jan 17, 2019 05:35 PM IST
بجٹ 2019: جی ایس ٹی وصولی میں ہدف سے پیچھے ہے حکومت، مالی خسارہ کی کیسے ہو گی بھرپائی؟

سوال یہ ہے کہ آخر جی ایس ٹی کو لے کر حکومت کا اندازہ اتنا غلط کیسے ثابت ہوا ہے؟

وزیر خزانہ ارون جیٹلی 1 فروری 2019 کو عبوری بجٹ پیش کریں گے۔ اس بار کے بجٹ میں وزیر خزانہ کے سامنے سب سے بڑا چیلنج یہ ہوگا کہ حکومت موجودہ مالی سال (2018-19) میں اپنے مالی خسارے کو کنٹرول میں کرنے کا ہدف حاصل کر لے۔

گزشتہ سال یکم فروری کو بجٹ پیش کرتے ہوئے ارون جیٹلی نے 2018-19 کے لئے مالی خسارے کا ہدف 624،276 کروڑ یعنی جی ڈی پی کا 3.3 تک حاصل کرنے کا ہدف رکھا تھا۔ مالی خسارہ، سرکار کی آمدنی اور اخراجات کے درمیان کا فرق ہوتا ہے۔

Loading...

جی ایس ٹی وصولی کا ہدف نامکمل

فرسٹ پوسٹ ڈاٹ کام کے مطابق، اس سال حکومت کے سامنے بڑا چیلنج یہ ہے کہ حکومت کی جی ایس ٹی وصولی کا ہدف ناقص رہا ہے۔ یہ بڑی تشویش کا معاملہ ہے۔ حکومت کو امید تھی کہ اس مالی سال میں جی ایس ٹی سے 6،03،900 کروڑ روپئے جمع کر لے گی۔ لیکن، اپریل سے لے کر دسمبر 2018 تک حکومت نے مرکزی جی ایس ٹی کے طور پر 3،41،146 کروڑ روپئے ہی اکھٹا کئے ہیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر حکومت کو جی ایس ٹی وصولی کے ہدف کو حاصل کرنا ہے تو اسے اس مالی سال کے باقی تین مہینوں میں 2،62،754 کروڑ روپئے وصول کرنے ہوں گے۔ یعنی حکومت کو ہر ماہ جی ایس ٹی سے 87،585 کروڑ روپئے جمع کرنے ہوں گے تاکہ اشیا اور خدمات ٹیکس سے آمدنی کے ہدف کو حاصل کیا جا سکے۔

حکومت نے اب تک کسی ایک مہینے میں جو سب سے زیادہ جی ایس ٹی وصول کیا ہے وہ جولائی 2018 میں 57،893 کروڑ روپئے تھا۔ اس سے واضح ہے کہ مالی سال کی آخری سہ ماہی میں حکومت جی ایس ٹی سے اپنی آمدنی کا ہدف شاید ہی پورا کر سکے۔ موجودہ شرح کے مطابق، ہدف اور جی ایس ٹی کی اصل وصولی کے درمیان تقریبا 1.5 لاکھ کروڑ روپئے کا فاصلہ رہ جانے کا امکان ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر جی ایس ٹی کو لے کر حکومت کا اندازہ اتنا غلط کیسے ثابت ہوا ہے؟

اس سوال کا جواب یہ ہے کہ جی ایس ٹی جمع نہیں کرنے والوں کی تعداد مالی سال 2018-19 میں بڑھی ہے۔

Loading...