اب تعلیم کا حصول ہوگا سستا ! ، اس بجٹ میں مودی حکومت  کرسکتی ہے بڑا فیصلہ

یکم فروری کو اس سال کا عبوری بجٹ پیش ہونے والا ہے ۔ یہ بجٹ مودی حکومت کا انتخابی بجٹ ہوگا ۔ اس بجٹ میں بچوں کو اعلی تعلیم میں داخلہ دلانے کی تیاری کررہے والدین کیلئے اچھی خبر مل سکتی ہے ۔

Jan 17, 2019 02:06 PM IST | Updated on: Jan 17, 2019 02:06 PM IST
اب تعلیم کا حصول ہوگا سستا ! ، اس بجٹ میں مودی حکومت  کرسکتی ہے بڑا فیصلہ

اب تعلیم کا حصول ہوگا سستا ! ، اس بجٹ میں مودی حکومت  کرسکتی ہے بڑا فیصلہ

یکم فروری کو اس سال کا عبوری بجٹ پیش ہونے والا ہے ۔ یہ بجٹ مودی حکومت کا انتخابی بجٹ ہوگا ۔ اس بجٹ میں بچوں کو اعلی تعلیم میں داخلہ دلانے کی تیاری کررہے والدین کیلئے اچھی خبر مل سکتی ہے ۔ حکومت ایجوکیشن سیکٹر میں کچھ خدمات پر جی ایس ٹی کی شرحوں پر دوبارہ غور کرنے کیلئے تیار ہے ۔ وزارت خزانہ کے وزیر مملکت شیوپرتاپ شکل نے اس بارے میں بتایا کہ اگر حکومت کو اس کے حق میں مضبوط بنیاد ملتی ہے ، تو وہ تعلیمی سیکٹر میں جی ایس ٹی پر غور کرے گی ۔

آئی اے این ایس کی خبر کے مطابق کنسلٹنگ گروپ اسٹیٹ فرسٹ اور ایسوچیم کے پری بجٹ مباحثہ میں وزیر مملکت نے کہا کہ حالانکہ ہر سیکٹر سے ٹیکس کم کرنے کا مطالبہ کیا جارہا ہے اور ملک کو چلانے کیلئے بڑے ریوینیو کی ضرورت ہے ، آپ تعلیمی سیکٹر کی کچھ خدمات پر ٹیکس کا جائزہ لینے کی سفارش کرسکتے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ اگر کچھ چیزوں پر ٹیکس کی شرحوں پر از سر نو غور کرنے کی مضبوط وجہ ہو ، تو میں آپ کو یقین دلاتا ہوں کہ یہ معاملہ میں وزیر خزانہ ارون جیٹلی کے سامنے اٹھاوں گا ۔

Loading...

خیال رہے کہ جی ایس ٹی نظام جولائی 2017 میں نافذ ہوا تھا ، جس کا تعلیمی سیکٹر پر بھی اثر پڑا تھا ۔ حالانکہ حکومت نے پری اسکول سے ہائر سکینڈری اسکول یا اس کے مساوی کو جی ایس ٹی میں چھوٹ دی تھی ، لیکن اعلی تعلیم کو اس کے دائرے میں رکھا تھا ۔ اس میں ٹرانسپورٹیشن ، کیٹرنگ ، ہاوس کیپنگ ، داخلہ اور امتحان کرانے پر جی ایس ٹی نافذ کیا گیا تھا ۔ اعلی تعلیمی اداروں نے یکم جولائی 2017 کے بعد طلبہ سے جی ایس ٹی وصول کرنا شروع کردیا تھا ۔

Loading...