مرکزی بجٹ 2019: حکومت چھوٹے کسانوں کو سالانہ چھ ہزار روپئے کی مدد دے گی

وزیر خزانہ پیوش گوئل نے آج لوک سبھا میں مالی سال 2019-20 کا عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا

Feb 01, 2019 12:24 PM IST | Updated on: Feb 01, 2019 01:05 PM IST
مرکزی بجٹ 2019: حکومت چھوٹے کسانوں کو سالانہ چھ ہزار روپئے کی مدد دے گی

وزیر خزانہ پیوش گوئل آج لوک سبھا میں مالی سال 2019-20 کا عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے

حکومت نے چھوٹے اور معمولی کسانوں کی مدد کے لئے وزیر اعظم کسان احترام فنڈ بنانے کا اعلان کیا ہے جس کے تحت دو ہیکٹر تک زمین پر کاشت کرنے والے کسانوں کو سالانہ چھ ہزار کروڑ روپے کی مدد دی جائے گی۔

وزیر خزانہ پیوش گوئل نے آج لوک سبھا میں مالی سال 2019-20 کا عبوری بجٹ پیش کرتے ہوئے یہ اعلان کیا۔ انہوں نے بتایا کہ یہ منصوبہ یکم دسمبر 2018 سے نافذ مانا جائے گا۔ اس کے تحت مدد کی رقم براہ راست کسانوں کے اکاؤنٹ میں جمع کی جائے گی۔ مرکزی حکومت اس کے مجموعی اخراجات میں اضافہ کرے گی ۔

Loading...

انہوں نے کہا کہ یہ رقم دو ،دو ہزار روپے کی تین مساوی قسطوں میں میں دی جائے گی۔ پہلی قسط جلد ہی کسانوں کے اکاؤنٹس میں بھیج دی جائے گی۔ گویل نے کہا کہ اس سے 12 کروڑ کسانوں کے گھر والوں کو فائدہ ہوگا۔ اس سے سرکاری خزانے پر سالانہ تقریبا 75 ہزار کروڑ روپے کا بوجھ آئے گا۔

گویل نے کہا کہ حکومت نے 2022 تک کسانوں کی آمدنی کو دوگنا کرنے کے لئے کئی اقدامات کئے ہیں۔ اس نے 22 فصلوں کی کم از کم سہارا قیمت کو ڈیڑھ گنا کیا ہے۔ اس کے باوجود، غذائی اجناس افراط زر کی شرح کم رہنے کی وجہ سے کسانوں کی متوقع آمدنی میں اضافہ نہیں ہوا ہے ۔ اس کے پیش نظر چھوٹے اور معمولی کسانوں کی آمدنی میں اضافہ کرنے کی ضرورت تھی۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ کسانوں کے لئے فصل قرض پر سودکی چھوٹ کی حد بھی دوگنا کی جائے گی۔ بینکوں کی طرف دیا جانے والا قرض بڑھاکر 11،68،000 کروڑ روپے ہوگیا ہے۔

وزیر مالیات نے قدرتی آفات سے متاثرہ زرعی کسانوں کو زرعی قرض پر سود میں دو فیصد چھوٹ دینے کا اعلان کیا۔وقت پر قسط ادا کرنے والے کسانوں کو سود میں اضافی طور پر تین فی صد کی اضافی چھوٹ دی جائے گی ۔ اس طرح زیادہ سے زیادہ رعایت پانچ فیصد ہوگی۔

Loading...