اترپردیش میں بی ایس پی کی حکومت بنی تو غنڈے ہوں گے جیل میں: مایاوتی کا انتباہ

سیتاپور۔ بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)کی صدر مایاوتی نے الزام لگایا ہے کہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دور حکومت میں مجرمانہ واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا، ریاست میں بی ایس پی کی حکومت بنی تو غنڈے جیل میں ہوں گے۔

Feb 12, 2017 05:07 PM IST | Updated on: Feb 12, 2017 05:08 PM IST
اترپردیش میں بی ایس پی کی حکومت بنی تو غنڈے ہوں گے جیل میں: مایاوتی کا انتباہ

فائل فوٹو

سیتاپور۔  بہوجن سماج پارٹی (بی ایس پی)کی صدر مایاوتی نے الزام لگایا ہے کہ اتر پردیش میں سماج وادی پارٹی (ایس پی) کے دور حکومت میں مجرمانہ واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا، ریاست میں بی ایس پی کی حکومت بنی تو غنڈے جیل میں ہوں گے۔ محترمہ مایاوتی نے آج  یہاں جی آئی سی میدان میں جلسہ عام سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ ریاست میں بی ایس پی حکومت بنانے میں کامیاب ہو جاتی ہے تو قانون کا راج ہوگا اور ترقیاتی کام ٹریک پر دوڑیں گے۔ غنڈے بدمعاش جیل میں ہوں گے اور لڑکیاں بے خوف آ جا سکیں گی۔ اکھلیش حکومت کے دور میں ریاست کاامن و قانون درہم برہم  ہو گیا۔ انہوں نے کہا کہ مودی حکومت کا نوٹوں کی منسوخی کا فیصلہ بغیر تیاری اور بنا سوچے سمجھے کیا گیا تھا جس سے ملک کا غریب، کسان اور مزدور آج بھی بے حال ہے۔ اس فیصلے سے جہاں غریبوں کی روزی چھن گئی وہیں کسان اپنے کھیتوں کی بوائی نہیں کر پائے۔ سیاسی مفاد کے لیے بی جے پی نے ملک میں کالےدھن پر پابندی لگانے کی آڑمیں غریب عوام کو لائن میں کھڑا کر کے اس کی روزی روٹی چھین لی۔ آج بھی ملک کی 90 فیصد عوام پریشان ہے۔

بی ایس پی کی صدر نے کہا کہ وزیر اعظم نریندر مودی نے نوٹوں کی منسوخی کے فیصلے کے دس ماہ پہلے ہی دھنا سیٹھوں کا کالا دھن ٹھکانے لگوا دیا تھا۔ سال 2014 میں ہوئے لوک سبھا انتخابات کے دوران بی جے پی نے ملک کے عوام سے 100دنوں میں کالا دھن واپس لا کر غریبوں کے کھاتوں میں 15 سے 20 لاکھ روپے ڈالنے کا وعدہ کیا تھا لیکن آج تک ایک بھی روپیہ کسی اکاؤنٹ میں نہیں آیا ہے۔ محترمہ مایاوتی نے کہا کہ اتحاد کی وجہ سے اقلیتیں سماجوادی کانگریس کی طرف نہیں بڑھیں گے۔ اقلیتییں وقت پر نہ جاگے تو انہیں پھر سے نقصان اٹھانا پڑے گا۔نریندر مودی کی حکومت اقلیتوں کو شک کی نظر سے دیکھ رہی ہے۔ ملک میں ان کے ساتھ سوتیلا سلوک کیا جا رہا ہے۔ سماجوادی پارٹی نے ان کی طرف سے شروع کئے گئے تمام منصوبوں کو نئے سرے سے شروع کیا ہے۔ پنشن کی منصوبہ بندی کا نام تبدیل کر دیا، جبکہ میٹرو ریل کی منصوبہ بندی ان کے دور اقتدار کی تھی۔ انہوں نے کہا کہ ایس پی حکومت کے پانچ سال اور مرکز کی مودی حکومت کی غلط پالیسیوں کی وجہ سے ریاست کا نقصان ہوا ہے۔ پردیش میں ترقیاتی کام ٹھپ پڑے ہیں۔ اس کےسلسلے میں ریاست کی 22 کروڑ عوام میں زبردست غم و غصہ ہے۔

بی ایس پی صدر نے کہا کہ ریاستی حکومت کی ناکامی چھپانے کیلئے ایس پی خاندان میں ڈراما رچا گیا۔ سماج وادی پارٹی کے دور حکومت میں مجرمانہ واقعات میں تیزی سے اضافہ ہوا۔ متھرا، دادری اور بلند شہر جیسے سانحہ ہوئے۔ متھرا میں تو سرکاری زمین پر قبضے کے سلسلے میں پولیس افسر تک کی جان چلی گئی۔ غریب، مظلوم اور اقلیتی طبقہ تو بہت پریشان ہوا۔ فسادات فساد سے اقلیتوں کو نقصان پہنچایا گیا۔ ایس پی میں خاندانی اختلاف کے بعد اب اقلیتوں کی توجہ اس پارٹی پر تحلیل ہو گئی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بی ایس پی حکومت بننے پر دلتوں اور پسماندہ طبقات کا ریزرویشن برقرار رہے گا اور ساتھ ہی غریبوں کو اقتصادی بنیاد پر بھی ریزرویشن دیا جائے گا۔ غریب کسانوں کا ایک لاکھ روپے کا قرض بی ایس پی حکومت معاف کرے گی۔ ریاست میں برسر اقتدارسماج وادی پارٹی (ایس پی) حکومت کی طرف سے انتقامی جذبے سے کام کیا گیا۔ اقلیتوں اور دلتوں کو جھوٹے معاملوں میں جیل بھیجا گیا۔ بی ایس پی کی حکومت بننے پر ایسے لوگوں کے معاملات کا جائزہ لیا جائے گا اور بے گناہوں کو رہا کیا جائے گا۔ ایس پی حکومت کے دوران ریاست میں 500 سے زائد چھوٹے بڑے فسادات ہوئے۔ محترمہ مایاوتی نے سماج وادی پارٹی کے خاندان کے اختلاف کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بیٹے کے پیار میں ملائم سنگھ نے اپنے بھائی شیو پال یادو کو ذلیل کیا ہے۔ سماج وادی پارٹی دو حصوں میں بٹ گئی ہے۔ ایس پی لیڈر شیوپال یادو اکھلیش کے خلاف میدان میں آچکے ہیں۔

Loading...

Loading...