مسلمانوں کی مخالفت کے بعد یوگی حکومت نے مدرسہ ڈریس کوڈ نافذ کرنے سے کیا توبہ

اترپردیش حکومت نے مسلم مذہبی رہنماوں کی مخالفت کے بعد مدرسہ ڈریس کوڈ معاملے پراپنے قدم واپس کھینچ لئے ہیں۔ اقلیتی بہبود کے کابینی وزیر چودھری لکشمی نارائن نے کہا کہ حکومت کے ذریعہ ایسا کوئی قدم اٹھائے جانے کا ارادہ نہیں ہے۔

Jul 04, 2018 05:46 PM IST | Updated on: Jul 04, 2018 05:47 PM IST
مسلمانوں کی مخالفت کے بعد یوگی حکومت نے مدرسہ ڈریس کوڈ نافذ کرنے سے کیا توبہ

اترپردیش کے وزیر اعلیٰ یوگی آدتیہ ناتھ

لکھنؤ: اترپردیش حکومت نے مسلم مذہبی رہنماوں کی مخالفت کے بعد مدرسہ ڈریس کوڈ معاملے پر اپنے قدم واپس کھینچ لئے ہیں۔اترپردیش اقلیتی بہبود اور حج کے وزیر مملکت محسن رضا نے منگل کو اعلان کیا تھا کہ مدرسہ بورڈ میں این سی ای آر ٹی نصاب شروع کرنے کے بعد اب روایتی کرتا پائجامہ کی جگہ نیا ڈریس کوڈ نافذ کیا جائے گا۔

محسن رضا کے اس بیان کے بعد مسلم مذہبی رہنماوں نے سخت نکتہ چینی کرتے ہوئے اسے مذہب میں مداخلت قراردیا تھا۔ ساتھ ہی سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈر اعظم خان نے یوگی حکومت پر جم کر تنقید کی تھی۔

Loading...

دوسری طرف اقلیتی بہبود کے کابینی وزیر چودھری لکشمی نارائن نے حکومت کے ذریعہ ایسا کوئی قدم اٹھائے جانے کی بات سے انکار کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کا ایسا کوئی ارادہ نہیں ہے۔ نارائن چودھری نے اپنے جونیئر وزیر کے بیان پر کہا کہ یہ ان کی اپنی رائے ہوسکتی ہے۔

مدرسہ دارالعلوم فرنگی محل نے ڈریس کوڈ پر محسن رضا کے بیان کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ اس کا فیصلہ مسلمانوں پر چھوڑ دینا چاہئے۔ واضح  رہے کہ محسن رضا نے منگل کو ایک پروگرام میں کہا تھا کہ مدارس میں طلبہ کرتا پائجامہ پہنتے ہیں، لیکن حکومت چاہتی ہے ان کا ڈریس رسمی ہو۔

دوسری طرف سماجوادی پارٹی کے قدآور لیڈراعظم خان نے یوگی حکومت پرجم کر نشانہ لگایا تھا۔ اعظم خان نے کہا کہ حکومت نے ابھی نصف بات کہی ہے۔ اگر ڈریس کوڈ نافذ نہ ہوا اورمدارس نے نافذ نہیں کیا توسزا کیا ہوگی؟ ان کا کہنا تھا کہ کیا اس حالت میں مدرسہ منہدم کر دیا جائے گا یا اساتذہ پر تیزاب ڈالا جائے گا۔ اعظم خان نے کہا کہ ڈریس کوڈ کو نہ ماننے والوں کو سزا کیا ملے گی، یہ بھی ساتھ۔ ساتھ  بتا دیا ہوتا توزیادہ اچھی بات ہوتی۔

اعظم خان یہیں نہیں رکے۔ انہوں نے رامپور میں میڈیا سے بات کرتے ہوئے مدارس میں یوگی حکومت کے ذریعے این سی ای آر ٹی نصاب نافذ کرنے پرکہا کہ'صاحب' جو چاہے کریں۔ اگر وہ ایسا نہ کریں تو کیا ہوگا یہ بھی بتائیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کواس جرم کی سزا کا بھی اعلان  کر دیناچاہئے تاکہ ایک بار پھر بحث میں یہ بات آ جائے کہ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی کیا تھی اورنریندر مودی کی ایمرجنسی کیا ہے؟ اعظم خان نے کہا کہ اندرا گاندھی کی ایمرجنسی اعلانیہ تھی۔ نریندر مودی کی غیراعلانیہ ہے۔ اعلانیہ سےغیراعلانیہ  ایمرجنسی زیادہ خطرناک ہے۔

Loading...