اسد الدین اویسی اترپردیش کی ایک لوک سبھا سیٹ پر بھی لڑ سکتے ہیں الیکشن

شوکت علی نے کہا کہ ان کے پاس نو ایم ایل اے، ایک ایم پی، 50 چیئرمین اور كارپوریٹر ہیں۔ راشٹریہ لوک دل کے پاس ایک ایم پی ہے اور وہ بھی چار پارٹیوں کا ایم پی ہے۔ ایک بھی ایم ایل اے نہیں۔ تو بڑی پارٹی کس کی ہے؟

Jan 22, 2019 11:46 AM IST | Updated on: Jan 22, 2019 11:46 AM IST
اسد الدین اویسی اترپردیش کی ایک لوک سبھا سیٹ پر بھی لڑ سکتے ہیں الیکشن

اسد الدین اویسی کی فائل فوٹو ۔

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے یوپی ریاستی صدر شوکت علی نے لوک سبھا انتخابات کے لئے ایس پی اور بی ایس پی کے درمیان ہوئے اتحاد پر نشانہ سادھتے ہوئے کہا کہ یہ مسلم لیڈرشپ کو اچھوت سمجھنے کی سیاست ہے۔ انہوں نے اتحاد میں راشٹریہ لوک دل کو حصہ داری دینے کے معاملے پر بھی سوال اٹھائے۔ اے آئی ایم آئی ایم کے ریاستی صدر نے کہا کہ 4 فیصد جاٹ ووٹ بینک والی پارٹی کو حصہ داری دی گئی، لیکن 22 فیصد آبادی والے مسلمانوں کو نظر انداز کر دیا گیا۔

نیوز 18 ہندی ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اتوار کو ایک میٹنگ بلائی گئی تھی جس میں یہ طے ہوا کہ مجلس اتحاد المسلمین یوپی میں لوک سبھا الیکشن لڑے۔ ساتھ ہی یہ تجویز بھی پیش کی گئی کہ اسدالدین اویسی صاحب حیدرآباد کے ساتھ ہی یوپی کی ایک سیٹ سے الیکشن لڑیں۔ اس کے لئے یوپی مجلس کا ایک وفد اویسی صاحب سے ملاقات کرے گا۔

Loading...

اتحاد میں مسلمانوں کو ان کی آبادی کے مطابق حصہ داری نہ ملنے کے الزامات پر انہوں نے کہا، "مسلمانوں کو اتحاد میں قیادت نہیں مل رہا۔ یہ جو اتحاد ہوا ہے اس میں 22 فیصد آبادی والے مسلمانوں کو حصہ داری نہیں دی گئی۔ 4 فیصد جاٹ آبادی والی آر ایل ڈی کو اتحاد میں حصہ داری دی گئی، لیکن مسلمانوں کو حصہ داری نہیں دی گئی۔ حصہ داری کا مطلب ٹکٹ دینا نہیں ہوتا ہے، بلکہ انہیں قیادت دینا ہوتا ہے۔ کہیں نہ کہیں آپ کی یہ ذہنیت ہے کہ مسلم لیڈرشپ کو آپ سیاست میں اچھوت سمجھتے ہیں۔ آر ایل ڈی سے بڑی پارٹی آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین ہے‘‘۔

شوکت علی نے کہا کہ ان کے پاس نو ایم ایل اے، ایک ایم پی، 50 چیئرمین اور كارپوریٹر ہیں۔ راشٹریہ لوک دل کے پاس ایک ایم پی ہے اور وہ بھی چار پارٹیوں کا ایم پی ہے۔ ایک بھی ایم ایل اے نہیں۔ تو بڑی پارٹی کس کی ہے؟ اترپردیش میں ہماری پارٹی 55 اضلاع میں ہے۔ راشٹریہ لوک دل کے صرف چار اضلاع میں ہے۔ یقینا ہمارے ساتھ یہ انصاف نہیں ہوا ہے۔ جس طرح سے دلتوں کو اچھوت سمجھا جاتا ہے اسی طریقہ سے سیاست میں مسلم لیڈرشپ کو اچھوت سمجھا گیا ہے۔

کانگریس کے ساتھ اتحاد کے سوال پر شوکت علی نے کہا کہ اس پر بھی فیصلہ قومی صدر اسد الدین اویسی کریں گے۔ اویسی کے فیروزآباد یا سنبھل سے الیکشن لڑنے کے سوال پر انہوں نے کہا کہ ابھی یہ طے نہیں ہوا ہے۔ ابھی انہیں یوپی کی ایک سیٹ سے الیکشن لڑنے کے لئے تجویز بھیجی گئی ہے۔

امت تیواری کی رپورٹ

Loading...