وسیم رضوی کا متنازعہ بیان "ہم جنس پرستی پر سپریم کورٹ کے فیصلے سے مدارس کے علمائے کرام کو ملی راحت"۔

وسیم رضوی نے ویڈیومیں کہا کہ آج ہوموسیکس اورلیزبین کو لے کرآئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے سب سے زیادہ راحت شدت پسند علمائے کرام کو ملی ہوگی۔

Sep 06, 2018 05:02 PM IST | Updated on: Sep 06, 2018 05:08 PM IST
وسیم رضوی کا متنازعہ بیان

یوپی شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی: فائل فوٹو

شیعہ وقف بورڈ کےچیئرمین وسیم رضوی ایک بارپھراپنے متنازعہ بیانات کولے کرسرخیوں میں ہیں۔ اس بارانہوں نے لیزبین (خواتین ہم جنس پرستی) اورہومو سیکس (مرد ہم جنس پرستی) کو لے کرمدارس کےعلمائے کرام پرتنقید کی ہے۔

لکھنومیں جمعرات کوایک ویڈیو جاری کرتے ہوئے وسیم رضوی نے کہا کہ آج ہوموسیکس اورلیزبین کولے کرآئے سپریم کورٹ کے فیصلے سے سب سے زیادہ راحت شدت پسند علمائے کرام کو ملی ہوگی۔

Loading...

وسیم رضوی نے کہا کہ ہوموسیکس اورلیزبین سیکس کی اسلام میں سخت ممانعت ہے۔ پھر بھی اسلام کی تعلیم  دینے والے شدت پسند مدارس میں مولانا ہوموسیکس کے کاموں میں ملوث رہتے ہیں۔ آج سپریم کورٹ کے ذریعہ ہوموسیکس اورلیزبین سیکس کو منظوری دینے کے بعد ہم سمجھتے ہیں سب سے بڑی راحت شدت پسند مدارس کے مولانا لوگوں کو ملی ہے۔ کیونکہ شرعی طورپرہم جنس پرستی حرام ہے۔

انہوں نے کہا کہ شریعت کا قانون اس معاملے میں ہندوستان میں نافذ نہیں ہوتا، لیکن آئین کے تحت بنائے گئے قوانین میں پہلے یہ جرم تھا، لیکن اب یہ نہیں ہے۔ ہوموسیکس معاملے میں قانونی دشواریاں اب ان مولانا لوگوں کے لئے ختم ہوچکی ہیں۔

 شیعہ وقف بورڈ کے چیئرمین وسیم رضوی کو اسلام سے خارج کیا گیا ، مددگاروں کے بھی بائیکاٹ کی اپیل

دراصل سپریم کورٹ نے جمعرات کو آپسی رضامندی سے ہم جنس پرستی کو جرم کے دائرے سے باہر کردیا ہے۔ فیصلہ سنانے والی آئینی بینچ میں چیف جسٹس آف انڈیا دیپک مشرا، جسٹس آرایف نریمن، جسٹس اے ایم کھانولکر، جسٹس ڈی وائی چندرچوڑاورجسٹس اندو ملہوترا بھی شامل تھے۔ عدالت نے اس معاملے میں فیصلہ 17 جولائی کو ہی محفوظ رکھ لیا تھا۔

 وسیم رضوی کا پھر متنازع بیان ، مدارس اسلامیہ میں ہندو اور شیعہ برادری کے خلاف بھرا جارہا ہے زہر

واضح رہے کہ یہ پہلا موقع نہیں ہے جب وسیم رضوی نے مدارس کو لے کرمتنازعہ بیان دیا ہے۔ اس سے قبل بھی وہ مدارس میں دہشت گردانہ تعلیم کی بات اٹھا چکے ہیں۔ حال ہی میں اجودھیا کی متنازعہ زمین دینے کی ان کی تجویز پران کے خلاف عراق سے فتویٰ بھی آیا تھا، جسے انہوں نے ماننے سے انکار کردیا، جس کے بعد انہیں اسلام سے خارج بھی کردیا گیا۔

محمد شباب کی رپورٹ

Loading...