پانچ برسوں سے یو پی کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں اردو کی کتابیں ندارد

الہ آباد۔ سرو شکشا ابھیان کے تحت پرائمری سطح کی کتابیں بچوں کو مفت دی جاتی ہیں ۔

Jan 19, 2016 09:50 PM IST | Updated on: Jan 19, 2016 09:50 PM IST
پانچ برسوں سے یو پی کے بیشتر سرکاری اسکولوں میں اردو کی کتابیں ندارد

الہ آباد۔ سرو شکشا ابھیان کے تحت پرائمری سطح کی کتابیں بچوں کو مفت دی جاتی ہیں ۔لیکن اتر پردیش کے سر کاری اسکولوں میں گذشتہ پانچ برسوں سے اردو مضمون کی کتابیں بچوں کو مفت فراہم نہیں کی گئی ہیں ۔ریاست کے جن سر کاری اسکولوں میں اردو پڑھائی جاتی ہے وہاں    بھی  بچوں کو اردو کی کتابیں مہیا نہیں کرائی گئی ہیں ۔

قابل ذکر بات یہ کہ الہ آباد میں واقع محکمہ تعلیم کے صدر دفتر میں اردو کی کتابیں بھری پڑی ہیں ۔ لیکن ابھی  تک  ان کتابوں  کو اسکولوں تک نہیں پہنچایا گیا ہے ۔اگر  محکمے کا بہی کھاتا  دیکھیں تو ہر سال  کتابیں  خریدی جاتی ہیں اور انکو  پھر  گوداموں میں   ڈال دیا جاتا ہے۔  اگرکبھی   یہ کتابیں     اضلاع  کے    بی ایس ای آفس تک بھی  پہنچ گئیں تو انکو  شہر سے باہر کسی  ایسے گودام میں  ڈھیر  کر دیا جاتا ہے، جہاں  سے وہ کبھی اسکولوں کے اردو اساتذہ  کے پاس نہیں پہنچ پاتی ہیں۔ یہ  سلسلہ  سال در سال جاری رہتا ہے۔

ریاست کا تعلیمی سیشن اختتام پذیر ہے ۔ایسے میں اس  سال  بھی سر کاری اسکوں میں زیر تعلیم مسلم بچے  اپنی مادری  زبان اردو کی تعلیم سے محروم رہیں گے ۔مسلمانوں کی تعلیم سے وابستہ افراد اس صورت حال کے لئے حکومت کی مشینری کو ذمہ دار قرار دے رہے ہیں ۔

Loading...

Loading...