اترپردیش : بلیا میں 23 سال پرانے قتل کیس میں پانچ ملزمان کو عمر قیدکی سزا ، 20 - 20 ہزار کا جرمانہ

اترپردیش میں ضلع بلیا کی ایک عدالت نے 23 سال پرانے قتل کے معاملے میں پانچ ملزمان کو عمر قید کے ساتھ بیس- بیس ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی۔

Feb 10, 2018 01:28 PM IST | Updated on: Feb 10, 2018 01:28 PM IST
اترپردیش : بلیا میں 23 سال پرانے قتل کیس میں پانچ ملزمان کو عمر قیدکی سزا ، 20 - 20 ہزار کا جرمانہ

علامتی تصویر

بلیا: اترپردیش میں ضلع بلیا کی ایک عدالت نے 23 سال پرانے قتل کے معاملے میں پانچ ملزمان کو عمر قید کے ساتھ بیس- بیس ہزار روپے کے جرمانے کی سزا سنائی۔ اس کے ساتھ ہی قتل کو حادثہ بتانے کے سازش کا مجرم پائے جانے پر پولس سب انسپکٹر اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر کو چار سال کی قید بامشقت اور پانچ ہزار روپے جرمانے کی سزا دی گئی ہے۔

استغاثہ کے مطابق پرمود کمار شکلا نے 28 اکتوبر 1995 کو بانسڈيه کوتوالی میں مقدمہ درج کرایا تھا کہ ان کے پاٹيدار كرپاشنكر شکلا کی لاش بانسڈيه کے مغرب میں روڈ سے شمال میں واقع چندرمنی پانڈے کے کنویں میں پڑی ہے۔ مقدمہ درج ہونے کے بعد پولیس سب انسپکٹر جيےناتھ یادو نے چھان بین کے بعد جرائم کی تصدیق نہیں ہونے پر حتمی رپورٹ پولس ڈپٹی سپرنٹنڈنٹ بانسڈيه کوسپرد کر دیا تھا۔ 13 دسمبر 1995 کو مقتول کی بیوی شکنتلا دیوی نے گورنر سے تحقیقات کی فریاد ی کی تھی۔

گورنر کے حکم پر سی بی سی آئی ڈی وارانسی نے معاملے کی جانچ کی اور پوسٹ مارٹم کرنے والے ڈاکٹر اور تفتیش کار پولس اہلکار کو قتل کو حادثہ قرار دینے کا قصور وار پایا گیا۔ سی بی سی آئی ڈی نے عدالت میں قتل کے ملزم وكرما یادو، جھنگور بھر، امیش کمار پانڈے، سریندر کمار پانڈے، سواميناتھ یادو اور سازش کے ملزم ڈاکٹر ونود کمار رائے اور پولس اہلکار جيےناتھ یادو کے خلاف چارج شیٹ داخل کی۔ بالائی سیشن جج دوم کی عدالت نے سماعت کے بعد کل شام تمام پانچوں ملزمان کو عمر قید کی سزا سنائی۔

Loading...

Loading...