دیوبند : مسلم نوجوان سے شادی کرنے کیلئے مندر پہنچی ہندو بیوہ خاتون ، پولیس نے لیا حراست میں 

اتر پردیش میں ضلع سہارنپور کے دیوبند میں واقع مندر میں ہفتہ کوایک خاتون مسلم شخص سے شادی کرنے پہنچی ، مگر ہندو تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔

Jan 05, 2019 08:00 PM IST | Updated on: Jan 05, 2019 08:00 PM IST
دیوبند : مسلم نوجوان سے شادی کرنے کیلئے مندر پہنچی ہندو بیوہ خاتون ، پولیس نے لیا حراست میں 

علامتی تصویر

اتر پردیش میں ضلع سہارنپور کے دیوبند میں واقع مندر میں ہفتہ کوایک خاتون مسلم شخص سے شادی کرنے پہنچی ، مگر ہندو تنظیموں کی مخالفت کی وجہ سے پولیس نے اسے حراست میں لے لیا۔ پولیس نے بتایا کہ بالاسندری مندر کے احاطے میں ایک ہندو بیوہ خاتون مسلم برادری سے تعلق رکھنے والے اپنے عاشق سے شادی کرنے پہنچی تھی۔ اس شادی کی مخالفت میں ہندو تنظیموں کے سینکڑوں کارکنان جمع ہو گئے۔ پولیس نے حالات بگڑنے سے قبل ہی موقع پر پہنچ کر جوڑے کو اپنی حراست میں لے لیا اور انھیں محفوظ مقام پر لے گئی۔

انہوں نے بتایا کہ گاؤں پیرڑ کی رہنے والی خاتون کی شادی کچھ برس پہلے گاؤں کرنجالی میں ہوئی تھی۔چند ماہ قبل اس کے شوہر کی موت ہو گئی تھی، جس کے بعد خاتون کو 20 لاکھ روپیے اور 21 بیگہہ زمین ترکے میں ملی۔ دیوبند کے محلہ سرائے کارہنے والے ایک مسلم نوجوان نے اس خاتون کو مبینہ طور پر اپنے عشق میں پھنسا لیا تاکہ وہ اس کی جائیداد کو ہڑپ سکے اور بعد میں خاتون سے پیچھا چھڑا لے۔

وشو ہندو پریشد کے اہلکار وکاس تیاگی نے اس تعلق سے صحافیوں کو بتایا کہ یہ براہ راست لو جہاد کا معاملہ ہے ۔ اس معاملے میں ہندو تنظیمیں پولیس سے کاروائی کا مطالبہ کر رہی ہیں۔پولیس کے مطابق مندر کے پجاری نے بھی مسلم شخص کو پہچاننے کے بعد اس کی ہندو خاتون سے شادی کرنے پر اعتراض ظاہر کیا تھا۔ پجاری کی پہل پر ہی ہندو تنظیموں کی سرگرمی سامنے آئی۔

Loading...

Loading...