اترپردیش : مدرسہ بورڈ کے سالانہ امتحانات میں بڑے پیمانے پر پھیر بدل ، دینی مدارس کو رکھا گیا دور

یو پی حکومت نے مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں اس مرتبہ بڑے پیمانے پر پھیر بدل کئے ہیں ۔اس مرتبہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو امتحان مراکز بنانے سے گریز کیا گیا ہے ۔

Apr 12, 2018 09:08 PM IST | Updated on: Apr 12, 2018 09:08 PM IST
اترپردیش :  مدرسہ بورڈ کے سالانہ امتحانات میں بڑے پیمانے پر پھیر بدل ، دینی مدارس کو رکھا گیا دور

حکومت کا کہنا ہے کہ مدارس کے امتحان میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے ۔ا

الہ آباد : یو پی حکومت نے مدرسہ بورڈ کے امتحانات میں اس مرتبہ بڑے پیمانے پر پھیر بدل کئے ہیں ۔اس مرتبہ اقلیتی تعلیمی اداروں کو امتحان مراکز بنانے سے گریز کیا گیا ہے ۔الہ آباد میں جن 26 تعلیمی اداروں کو امتحان مراکز بنایا گیا ، ان میں صرف چار اقلیتی ادارے ہی شامل ہیں ۔اس علاوہ دور دراز کے علاقوں میں امتحان مراکز بنادئے گئے ہیں ۔حکومت کا کہنا ہے کہ نقل سے پاک امتحان کرانے کے لئے اس طرح کے سخت اقدامات انتہائی ضروری تھے ۔

ریاست میں مدرسہ بورڈ کے سالانہ امتحانات 16 اپریل سے شروع ہو رہے ہیں ۔لیکن اس مرتبہ حکومت نے امتحان مراکز کے تعین میں دینی اداروں کو تقریباً نظر انداز کر دیا ہے ۔الہ آباد کے 26 امتحان مراکز میں صرف چار اقلیتی اداروں کو ہی شامل کیا گیا ہے ۔حکومت کی دلیل ہے کہ امتحان کو نقل سے بچانے کے لئے اس طرح کے سخت اقدامات بہت ضروری تھے ۔

ریاستی حکومت نے امتحان مراکز کی جو فہرست جا ری کی ہے ان میں بیشتر کالج سنگھ پریوار سے تعلق رکھنے والے تعلیمی ادارے چلا رہے ہیں ۔دینی مدارس حکومت کی اس مداخلت سے کافی پریشان ہیں ۔ان کا کہنا ہے کہ امتحان کو پیچیدہ بنانے کی وجہ سے ڈراپ آوٹ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے ۔

ادھر حکومت کا کہنا ہے کہ مدارس کے امتحان میں بڑے پیمانے پر اصلاح کی ضرورت ہے ۔اسی لئے اس مرتبہ مدرسہ بورڈ کے امتحانات سی سی ٹی وی کیمرے اور پولیس فورس کی نگرانی میں کرانے کا فیصلہ کیا گیا ہے ۔حکومت کی دلیل ہے کہ اس طرح کے سخت اقدامات سے مدرسہ بورڈ کے امتحان میں نقل نویسی اور بد نظمیوں پر روک لگائی جا سکے گی۔

Loading...

الہ آباد سے مشتاق عامر کی رپورٹ

Loading...