اتراکھنڈ کے 9 باغی ممبران اسمبلی نے رکنیت بچانے کیلئے عدالت سے مانگی 25 تک کی مہلت

دہرادون: اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت پر نینی تال ہائی کورٹ میں جاری سماعت پیر تک کے لئے ملتوی ہوگئی ہے۔

Apr 23, 2016 07:54 PM IST | Updated on: Apr 23, 2016 07:54 PM IST
اتراکھنڈ کے 9 باغی ممبران اسمبلی نے رکنیت بچانے کیلئے عدالت سے مانگی  25 تک کی مہلت

دہرادون: اتراکھنڈ میں کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت پر نینی تال ہائی کورٹ میں جاری سماعت پیر تک کے لئے ملتوی ہوگئی ہے۔ باغیوں کے وکیل نے اپنا موقف رکھنے کے لئے پیر تک کا وقت مانگا ہے۔ ہفتہ کی دوپہر جسٹس يوسي دھياني کی عدالت میں اسمبلی اسپیکر کی طرف سے باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت ختم کرنے کے فیصلے پر سماعت شروع ہوئی۔ سماعت شروع ہوتے ہی باغیوں کے وکیل نے اپنا موقف رکھنے کے لئے پیر تک کا وقت مانگا ، جس کی اسمبلی اسپیکر کے وکیل کپل سبل نے مخالفت کی۔

سبل نے کہا کہ باغیوں کی رکنیت ختم کرنے کا اسمبلی اسپیکر کا فیصلہ درست ہے۔ اس کے بعد سماعت دو بجے تک ملتودی کردی گئی۔ دوپہر بعد دو بجے عرضی پر دوبارہ سماعت شروع ہوئی، دونوں فریقوں کو سننے کے بعد عدالت نے باغیوں کو پیر تک کا وقت دیتے ہوئے کیس کی سماعت ملتوی کر دی۔ اگلی سماعت پیر کو ہوگی۔

غور طلب ہے کہ اسمبلی اسپیکڑ نے 27 مارچ کو حکم جاری کر کے سابق وزیر اعلی وجے بہوگنا سمیت نو باغی ممبران اسمبلی کی رکنیت منسوخ کر دی تھی۔ ہائی کورٹ نے بھی اس فیصلے پر اپنی مہر لگائی تھی۔ باغیوں نے اسمبلی اسپیکر کے اسی فیصلہ کو ہائی کورٹ میں چیلنج کیا تھا۔

جسٹس دھياني کی ایک رکنی بینچ میں دائر درخواست میں کہا گیا ہے کہ باغیوں نے پارٹی نہیں چھوڑی تھی، صرف حکومت کے خلاف گئے تھے۔ ساتھ ہی الزام لگایا گیا ہے کہ بی جے پی ممبر اسمبلی بھيم لال آریہ کی رکنیت ختم کرنے کے معاملہ میں اسمبلی اسپیکر امتیازی رویہ برت رہے ہیں۔ اس سے پہلے اسمبلی اسپیکر نے اپنے جواب میں کہا تھا کہ اتراکھنڈ اسمبلی میں 18 مارچ کو مالی بل آئینی دفعات کے مطابق منظور ہوا تھا۔

Loading...

Loading...