اتراکھنڈ سیاسی بحران : کانگریس کے باغی ممبران اسمبلی آج جاسکتے ہیں سپریم کورٹ

دہرادون : اتراکھنڈ کے نینی تال ہائی کورٹ کے ذریعہ گزشتہ روز نو باغی ممبران اسمبلی کی عرضی مسترد کئے جانے کے بعد اب وہ لوگ سپریم کورٹ کا دروازہ آج کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ہائی کورٹ نے عرضی مسترد کرتے ہوئے اسمبلی اسپیکر گووند كنجوال کی طرف دیے گئے وجہ بتاؤ نوٹس پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔

Mar 26, 2016 09:28 AM IST | Updated on: Mar 26, 2016 09:47 AM IST
اتراکھنڈ سیاسی بحران : کانگریس کے باغی ممبران اسمبلی آج جاسکتے ہیں سپریم کورٹ

دہرادون :  اتراکھنڈ کے نینی تال ہائی کورٹ  کے ذریعہ گزشتہ روز نو باغی ممبران اسمبلی کی عرضی مسترد کئے جانے کے بعد اب وہ لوگ سپریم کورٹ کا دروازہ آج کھٹکھٹا سکتے ہیں۔ خیال رہے کہ ہائی کورٹ نے عرضی مسترد کرتے ہوئے  اسمبلی اسپیکر گووند كنجوال کی طرف دیے گئے وجہ بتاؤ نوٹس پر روک لگانے سے انکار کر دیا۔

ہائی کورٹ کے حکم کے بعد باغی ممبران اسمبلی کو گہرا جھٹکا لگا اور ان کی اسمبلی کی رکنیت ختم ہونے کے آثار بڑھ گئے ہیں۔ عدالت سے درخواست مسترد ہوتے ہی ممبران اسمبلی نے اسمبلی اسپیکر سے انہیں (اراکین اسمبلی کو) دئے گئے نوٹس کا جواب دینے کے لئے ایک ہفتے کے وقت کو کم بتاتے ہوئے زیادہ وقت دیے جانے کا مطالبہ کیا ہے۔

ذرائع کے مطابق 18 مارچ کو نو باغی ممبران اسمبلی کے گورنر سے مل کر ہریش راوت حکومت کو برخاست کرنے کی مانگ کے بعد چیف وہپ ڈاکٹر اندرا هردیش نے پارٹی بدلنے کی کارروائی کے لئے اسپیکر کے سامنے شکایت درج کرائی تھی۔ اس کے بعد مسٹر كنجوال نے تمام نو باغی ممبران اسمبلی کو جماعت کی تبدیلی قانون کے تحت نوٹس جاری کر دیا گیا تھا۔ اس پر باغیوں کو ہفتہ تک جواب دینا ہے۔

ذرائع کے مطابق اسپیکر کے نوٹس کو غیر آئینی قرار دے کر نو باغی ممبران اسمبلی کی جانب سے ان کے وکلاء نے نوٹس پر روک لگانے کی مانگ کے ساتھ اپنی عرضی دائر کی تھی۔ حکومت کی طرف سے ایڈووکیٹ جنرل اور سینئر وکیل کپل سبل نے پیروی کی اور حکومت کا موقف رکھا۔ جس کے بعد جسٹس سدھانشو دھولیہ نے ان کی درخواست کو بے بنیاد قرار دیتے ہوئے مسترد کر دیا ہے۔  ذرائع کے مطابق ہائی کورٹ کے احکامات کے تحت باغی نو ممبران اسمبلی کو اسپیکر کے سامنے اپنا موقف رکھنے کو کہا گیا ہے۔ چونکہ نوٹس حکمران کانگریس پارٹی کی شکایت پر اسپیکر نے کافی بنیاد مانتے ہوئے دیا ہے۔ لہذا ہائی کورٹ نے اس معاملے میں فی الحال مداخلت کرنے سے انکار کر دیا ہے۔ اس معاملے كو اب سپریم کورٹ میں بھی لے جانے کا چرچا ہے۔

Loading...

اس پیش رفت کے درمیان نو باغی ممبران اسمبلی کی جانب سے ان کے وکیل نے آج اسمبلی پہنچ کر اسپیکر کو اراکین اسمبلی کی جانب سے خط سونپا جس میں انہیں دیئے گئے نوٹس پر جواب کے لئے مزید وقت دینے کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ ساتھ ہی اسمبلی کی 18 مارچ کی پوری کاروائی اور تمام ثبوت مانگے گئے ہیں۔ اس پر کل اسمبلی اسپیکر کو فیصلہ کرنا ہے۔

Loading...