اتراکھنڈ کا سیاسی بحران : مرکزی حکومت اور کانگریس دونوں کورٹ کے دروازے پر

دہرادون۔ اتراکھنڈ کے سیاسی بحران کو لے کر اب مرکزی حکومت اور کانگریس دونوں کورٹ کے دروازے پر ہیں۔

Mar 30, 2016 11:30 AM IST | Updated on: Mar 30, 2016 11:30 AM IST
اتراکھنڈ کا سیاسی بحران : مرکزی حکومت اور کانگریس دونوں کورٹ کے دروازے پر

دہرادون۔ اتراکھنڈ کے سیاسی بحران کو لے کر اب مرکزی حکومت اور کانگریس دونوں کورٹ کے دروازے پر ہیں۔ کانگریس 9 باغی ممبران اسمبلی کو اعتماد کے ووٹ کے دوران ووٹ دینے کا حق دیے جانے کے خلاف عدالت پہنچ چکی ہے۔ کانگریس نے نینی تال ہائی کورٹ کے ڈویژنل بینچ میں اپیل داخل کی ہے۔ وہیں مرکزی حکومت نے ہریش راوت کو اعتماد کا ووٹ حاصل کرنے کا موقع دئیے جانے کے خلاف اپیل کر دی ہے۔ آج ہی دونوں معاملے پر فیصلہ آنے کی امید ہے۔ انہی دو فیصلوں پر اب ہریش راوت کا مستقبل ٹکا ہے۔ اس سے پہلے نینی تال ہائی کورٹ نے اپنے حکمنامہ میں ہریش راوت کو 31 مارچ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا تھا، ساتھ ہی کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کو بھی ووٹنگ کا حق دیا تھا۔

منگل کو ہائی کورٹ کے حکم نے کانگریس کو تھوڑی راحت ضرور دی لیکن اس فیصلے نے اس کی مشکل بھی بڑھا دی۔ مرکزی حکومت کو بھی اس فیصلہ سے سخت دھچکا پہنچا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ اب کانگریس اور بی جے پی دونوں عدالت کے دروازے پر پہنچ رہی ہیں۔ مرکزی حکومت آج نینی تال ہائی کورٹ کے سنگل بینچ کے فیصلے کو ڈبل بینچ میں چیلنج کر رہی ہے۔ اٹارنی جنرل مکل روہتگی نینی تال ہائی کورٹ پہنچ چکے ہیں۔

Loading...

نینی تال ہائی کورٹ نے اپنے حکمنامہ میں ہریش راوت کو 31 مارچ تک اسمبلی میں اکثریت ثابت کرنے کو کہا ہے۔ ہریش راوت کے لیے یہ ایک اچھی خبر تھی لیکن عدالت نے ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی کو بھی ووٹنگ کا حق ہو گا، لیکن ان کے ووٹوں کو الگ رکھا جائے گا جس کے بعد سے ہریش راوت کی مشکل بڑھ گئی۔

کانگریس کی طرف سے کیس کی پیروی سنگھوی اور کانگریس لیڈر کپل سبل کر رہے ہیں، دونوں وکیل بھی ہیں۔ مرکزی کابینہ نے اتوار کو اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تھی۔ صدر نے آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت اس کے اعلان پر دستخط کئے تھے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ اسمبلی معطل کر دی گئی۔ یہ پورا واقعہ محض ایک دن پہلے کا ہے، جب کانگریس کی زیرقیادت ریاستی حکومت کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنا تھی۔

کانگریس کے رہنماؤں اور راوت نے صدر راج نافذ کرنے کے مرکز کے اس فیصلے کو جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب گورنر نے وزیر اعلی ہریش راوت کو 28 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا تھا، تب مرکزی حکومت نے 24 گھنٹے پہلے منتخب حکومت کو برخاست کرنے کی جلد بازی کیوں کی۔

Loading...