ہائی کورٹ سے راوت کو ملی بڑی راحت، 31 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت

دہرادون۔ اتراکھنڈ میں جاری سیاسی بحران کے درمیان سابق وزیر اعلی ہریش راوت کو آج نینی تال ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔

Mar 29, 2016 03:02 PM IST | Updated on: Mar 29, 2016 06:15 PM IST
ہائی کورٹ سے راوت کو ملی بڑی راحت، 31 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کی ہدایت

دہرادون۔ اتراکھنڈ میں جاری سیاسی بحران کے درمیان سابق وزیر اعلی ہریش راوت کو آج نینی تال ہائی کورٹ سے بڑی راحت ملی ہے۔ ہائی کورٹ نے راوت سے 31 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کو کہا ہے۔ اس کے علاوہ باغی ممبران اسمبلی کو بھی موجود رہنے کی اجازت دے دی ہے۔

ہائی کورٹ نے کہا کہ باغی ممبران اسمبلی بھی ایوان میں موجود رہیں گے، لیکن ان کے ووٹ الگ رکھے جائیں گے اور یکم اپریل کو ایوان کی کارروائی سے نینی تال کورٹ کو آگاہ کرایا جائے گا۔ ایوان کی اس کارروائی کے لئے ہائی کورٹ نے ایک آبزرور مقرر کیا ہے۔ کانگریس کے 9 باغی ممبران اسمبلی ہیں اور 1 بی جے پی کا باغی ممبر اسمبلی ہے۔

Loading...

ریاست میں صدر راج نافذ کرنے کے خلاف کانگریس پارٹی پیر کو اتراکھنڈ ہائی کورٹ پہنچ گئی تھی۔ کل ہی کانگریس لیڈر ہریش راوت 34 ممبران اسمبلی کے ساتھ گورنر سے ملے تھے۔ کانگریس لیڈر اور ایڈووکیٹ ابھیشیک منو سنگھوی کی دلیلیں سننے کے بعد عدالت نے مرکز کو منگل تک اپنا جواب دینے کو کہا تھا۔

غور طلب ہے کہ کانگریس کی جانب سے کیس کی پیروی سنگھوی اور کانگریس لیڈر کپل سبل کر رہے ہیں، دونوں وکیل بھی ہیں۔ سنگھوی پیر کی صبح دہلی سے نینی تال ہائی کورٹ پہنچے۔ اس سے پہلے مرکزی کابینہ نے اتوار کو اتراکھنڈ میں صدر راج نافذ کرنے کی سفارش کی تھی۔ صدر نے آئین کے آرٹیکل 356 کے تحت اس کے اعلان پر دستخط کئے تھے۔ اس کے بعد اتراکھنڈ اسمبلی معطل کر دی گئی۔ یہ پورا واقعہ محض ایک دن پہلے کا ہے، جب کانگریس کی زیر قیادت ریاستی حکومت کو ایوان میں اکثریت ثابت کرنا تھا۔

کانگریس کے رہنماؤں اور راوت نے صدر راج نافذ کرنے کے مرکز کے اس فیصلے کو جمہوریت کا قتل قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ جب گورنر نے وزیر اعلی ہریش راوت کو 28 مارچ کو اکثریت ثابت کرنے کا موقع دیا تھا، تب مرکزی حکومت نے 24 گھنٹے پہلے منتخب حکومت کو برخاست کرنے کی جلد بازی کیوں کی۔

Loading...