میرٹھ میں تقریبا 100 مسلم کنبوں نے نقل مکانی کا اعلان کیا ، مکان برائے فروخت کا لگایا پوسٹر

وگوں نے باضابطہ طور پر اپنے گھروں کے باہر نقل مکانی اور مکان برائے فروخت کا پوسٹر بھی چسپاں کردیا ہے ۔

Jun 28, 2018 09:45 PM IST | Updated on: Jun 28, 2018 09:45 PM IST
میرٹھ میں تقریبا 100 مسلم کنبوں نے نقل مکانی کا اعلان کیا ، مکان برائے فروخت کا لگایا پوسٹر

میرٹھ کے لساڑی گاوں کے تقریبا 100 مسلم کنبوں نے انتظامیہ پر یکطرفہ کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے گاوں سے نقل مکانی کا اعلان کیا ہے۔

مغربی اترپردیش کے میرٹھ میں ایک مرتبہ پھر فرقہ وارانہ کشیدگی دیکھنے کو مل رہی ہے ۔ میرٹھ کے لساڑی گاوں کے تقریبا 100 مسلم کنبوں نے انتظامیہ پر یکطرفہ کارروائی کا الزام عائد کرتے ہوئے گاوں سے نقل مکانی کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں نے باضابطہ طور پر اپنے گھروں کے باہر نقل مکانی اور مکان برائے فروخت کا پوسٹر بھی چسپاں کردیا ہے ۔ نقل مکانی کی بات سامنے کے بعد پولیس انتظامیہ میں افرا تفری مچ گئی ۔

دراصل میرٹھ کے لساڑی گاوں میں دو فرقوں کے لوگوں کے درمیان 21 جون کو موٹرسائیکل کی ٹکر کو لے کر تنازع ہوگیا تھا ۔ لوگوں کا کہنا ہے کہ پولیس نے اس معاملہ میں یکطرفہ کارروائی کرتے ہوئے ایک فریق کے دو لوگوں کو جیل بھیج دیا ہے جبکہ دوسرے فریق کے لوگوں کو تھانے سے ہی چھوڑ دیا ۔

پولیس کی اس یکطرفہ کارروائی سے پریشان دوسرے فریق کے لوگوں نے اپنے گھروں کے باہر "یہ مکان برائے فروخت ہے ، یہاں چھوٹی چھوٹی باتوں کو فرقہ وارانہ رنگ دیدیا جاتا ہے "کے پوسٹر چسپاں کردئے ہیں اور گاوں کے تقریبا 100 سے زیادہ گھروں نے یہاں سے نقل مکانی کرنے کا فیصلہ کیا ہے ۔ پولیس انتظامیہ سے مطالبہ کیا گیا ہے کہ یا تو وہ لوگ ان کے مکانات کو خرید لیں یا پھر دوسرے فرقہ کے لوگ ان کے مکان خرید لیں ۔ تاکہ یہ لوگ کہیں اور جاکر امن سے رہ سکیں۔

حنیف نامی ایک شخص کا کہنا ہے کہ انہوں نے یہ اعلان مجبوری میں کیا ہے، نہیں تو یہاں بھائی چارہ کی تاریخ تھی ۔ 1987 میں جب میرٹھ سلگ رہا تھا تب بھی یہاں سب کچھ ٹھیک تھا ۔ کچھ سالوں میں یہاں ایسے عناصر آگئے ہیں ، جنہوں نے پھوٹ ڈالنے کا کام کیا ہے ۔ چھوٹے چھوٹے تنازع کو انہوں نے فرقہ وارانہ رنگ دینے کی کوشش کی ہے ۔ حنیف نے کہا کہ 21 جون کو دکان میں موٹر سائیکل ٹکرا گئی تھی ، جسے فرقہ وارانہ رنگ دیدیا گیا ۔ انتظامیہ نے یکطرفہ کارروائی کی ۔ ہماری ایف آئی آر تک درج نہیں کی جارہی ہے۔

Loading...

feature-image

وہیں ایک خاتون فرزانہ کا کہنا ہے کہ ہمیں انصاف نہیں مل رہا ہے ، لہذا ہم نقل مکانی کررہے ہیں ، بچوں کا تنازع تھا ، خواہ ہمارا ہو یا ان کا ، دونوں کے درمیان آسانی سے معاملہ حل کیا جاسکتا تھا ، لیکن تنازع کو طول دیدیا گیا اور یکطرفہ کارروائی کی گئی ۔

فرزانہ نے مزید کہا کہ یہاں جتنے بھی کنبے ہیں ، سبھی نقل مکانی کرنا چاہتے ہیں ، ہمیں کوئی سیکورٹی نہیں ہے ۔ فرزانہ نے کہا کہ ہمیں انصاف چاہئے ، صرف ہمارے بچوں کے ہی خلاف کارروائی کی کیوں کی گئی ۔ وہیں ایک اور خاتون عمرانہ کا کہنا ہے کہ بچوں کی لڑائی کو ہندو - مسلم بنادیا گیا ۔ سبھی نے سمجھانے کی کوشش کی ، لیکن یہ نہیںمانے ۔ لساڑی میں رہ کر ہم خود کو محفوظ نہیں مان رہے ہیں۔

ادھر اس معاملہ پر میرٹھ کے ایس ایس پی راجیش پانڈے کا کہنا ہے کہ وہاں ایک دکاندار اور ان کے پڑوسی میں تنازع ہوگیا تھا ۔ دو لوگوں کے اس جھگڑے کو فرقہ وارانہ رنگ دینے کی بھی کوشش کی گئی ، جن لوگوں نے غلطی کی تھی ، مار پیٹ کی تھی ، حملہ کیا تھا ، ان کے خلاف مقدمہ درج کرلیا گیا ۔ جب گرفتاری کیلئے دبش دی جانے لگی تو دباو بنانے کیلئے ایک پوسٹر اپنے دروازے پر چسپاں کردیا ہے۔

Loading...