نوئیڈا کے متنازع چیف انجینئریادو سنگھ کو 6 سالوں میں ملا 100 کروڑ کا کمیشن؟

نئی دہلی : بدعنوانی کے الزام میں سی بی آئی جانچ کا سامنا کر رہے نوئیڈا کے متنازع چیف انجینئر یادو سنگھ کو 2008-14 کے درمیان مبینہ طور پر 100 کروڑ روپے 'گمنام کمیشن کے طور پر ملے تھے۔ خیال رہے کہ سنگھ فی الحال سی بی آئی کی گرفت میں ہے اور اس کیس میں گرفتار کیا گیا وہ دوسرا شخص ہے ۔ اس سے قبل پروجیکٹ انجینئر رامیندر کو گرفتار کیا گیا تھا ، جو سنگھ کو رپورٹ کیا کرتا تھا۔

Feb 07, 2016 03:58 PM IST | Updated on: Feb 07, 2016 03:58 PM IST
نوئیڈا کے متنازع چیف انجینئریادو سنگھ کو 6 سالوں میں ملا 100 کروڑ کا کمیشن؟

نئی دہلی : بدعنوانی کے الزام میں سی بی آئی جانچ کا سامنا کر رہے نوئیڈا کے متنازع چیف انجینئر یادو سنگھ کو 2008-14 کے درمیان مبینہ طور پر 100 کروڑ روپے 'گمنام کمیشن کے طور پر ملے تھے۔ خیال رہے کہ سنگھ فی الحال سی بی آئی کی گرفت میں ہے اور اس کیس میں گرفتار کیا گیا وہ دوسرا شخص ہے ۔ اس سے قبل پروجیکٹ انجینئر رامیندر کو گرفتار کیا گیا تھا ، جو سنگھ کو رپورٹ کیا کرتا تھا۔

ذرائع کے مطابق ابتدائی جانچ سے پتہ چلتا ہے کہ ایک اندازے کے مطابق 2500کروڑ روپے سے زیادہ کی اسکیموں کو سنگھ نے اپنی مدت کار میں منظوری دی تھی ، جن میں اس نے تقریبا پانچ فیصد کمیشن لیا۔ سی بی آئی نے اپنی چارج شیٹ میں کہا ہے کہ نومبر 2014 کے اواخر میں سنگھ نے آٹھ دن کے اندر اندر 959 کروڑ روپے کی قیمت کے 1280 معاہدوں پر مبینہ طور پر دستخط کئے تھے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ سنگھ کے ساتھ کام کر رہے کچھ حکام سمیت نوئیڈا اسٹاف کے بیانات پر مبنی ابتدائی اعداد و شمار ہیں، حقیقی اعداد و شمار میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ انہوں نے دعوی کیا کہ حکام نے تفتیشی ایجنسیوں، انکم ٹیکس اور سی بی آئی کو بتایا کہ سنگھ نے کمیشن مبینہ طور پر انفرادی طور پر لیا تھا ، جو رشوت کی دیگر رقم سے الگ تھی ۔ ذرائع نے کہا کہ سی بی آئی کی حراست میں سنگھ کا سامنا اس طرح کے نوشتہ سے کرایا جا رہا ہے۔

ذرائع کے مطابق سنگھ کو سی بی آئی کے دو مقدمات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ایک کیس ٹھیکے دینے میں بدعنوانی سے متعلق ہے اور دوسرا معاملہ اس کے اور اس کے اہل خانہ کے نام پر اکٹھا کی گئی جائیداد کا ہے ، جو اس کی آمدنی کے معلوم ذرائع سے کافی زیادہ ہے۔ انہوں نے کہا کہ رامیندر نے اس بارے میں انکشاف کیا کہ نوئیڈا میں حکام کے درمیان رشوت مبینہ طور پر کس طرح لی جاتی تھی اور کس طرح تقسیم کی جاتی تھی۔

Loading...

ذرائع کے مطابق اس نے ایک ڈائری بنائی تھی ، جس میں وہ کمیشن کی گنتی اور حکام میں اس کی تقسیم کا ریکارڈ بڑے احتیاط سے رکھتا تھا۔ انہوں نے کہا کہ اب تک کی جانچ میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ٹھیکہ دینے میں ضوابط کی مبینہ طور پر خلاف ورزیاں کی گئی ہیں۔ ذرائع نے یہ بھی کہا کہ ایک کیس میں ایک ایسی کمپنی کے حق میں معاہدہ پر دستخط کردیا گیا ، جو پہلے ہی 60 فیصد کام مکمل کر چکی تھی۔

Loading...