یشونت سنہا کی جذباتی اپیل: بی جے پی اراکین پارلیمنٹ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے باغی رہنما یشونت سنہا نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے ملک میں جمہوریت کو بچانے اور اس کے لئے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔

Apr 18, 2018 09:25 AM IST | Updated on: Apr 18, 2018 09:25 AM IST
یشونت سنہا کی جذباتی اپیل: بی جے پی اراکین پارلیمنٹ حکومت کے خلاف آواز اٹھائیں

بھارتیہ جنتا پارٹی کے باغی رہنما یشونت سنہا: فائل فوٹو، فوٹو یو این آئی۔

نئی دہلی۔ بھارتیہ جنتا پارٹی کے باغی رہنما یشونت سنہا نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ سے ملک میں جمہوریت کو بچانے اور اس کے لئے آواز اٹھانے کی اپیل کی ہے۔ سنہا نے اپنی پارٹی کے اراکین پارلیمنٹ کے نام لکھے گئے ایک کھلے خط میں کہا ہے کہ مودی حکومت نے اپنے میعاد کار کے تقریبا چار سال پورے کر لئے ہیں اور پانچ بار بجٹ بھی پیش کیا ہے لیکن اب تک ملک کے سامنے کوئی مثبت نتیجہ سامنے نہیں آیا ہے۔ اب تک یہ لگتا ہے کہ ہم نے اپنا راستہ ہی کھودیا ہے اور ملک کے رائے دہندگان کا اعتماد بھی ہم پر سے اٹھ گیا ہے۔

دارالحکومت سے شائع ہونے والے ایک انگریزی روزنامہ میں شائع ہوئے اس خط میں یشونت سنہا نے یہ بھی کہا ہے کہ اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ ان چار برسوں میں حکومت کو چھوٹی چھوٹی کامیابیاں ضرور ملی ہیں لیکن اس دوران اتنی بڑی ناکامیاں ہوئی ہیں کہ کامیابیاں بے معنی ہوکر رہ گئی ہیں۔ اس لئے آپ ملک کو بچانے اور جمہوریت کے تحفظ کے لئے اٹھ کھڑے ہوں اور اپنے حوصلے کا ثبوت دیں۔ سابق وزیرخزانہ نےاس خط میں اس بات پر بھی تشویش کا اظہار کیا ہے کہ ملک کی معیشت بے حد خراب ہوگئی ہے۔ خواتین کے عدم  تحفظ کی صورت حال روز بروز بڑھتی جا رہی ہے اور خارجہ پالیسی، پارٹی کی داخلی جمہوریت اور ملک کے جمہوری ادارے کو مسلسل کمزور کیا جا رہا ہے۔

سنہا نے یہ بھی کہا  کہ وقت کا تقاضہ ہے کہ پارٹی کے ایم پی ملک کے مفاد میں جمہوریت کو بچانے کے لئے آگے آئیں۔ انہوں نے لکھا ہے کہ مجھے خوشی ہے کہ پارٹی کے پانچ دلت اراکین پارلیمنٹ نے حکومت کے تئیں عدم اعتماد کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ دلت فرقے کے لئے جو وعدے کئے گئے تھے وہ پورے نہیں ہورہے ہیں۔ اس لئے میں آپ سب سے درخواست کررہا ہوں کہ آپ اپنی قیادت کے سامنے اپنے خیالات واضح طریقے سے پیش کریں۔ اگر آپ خاموش رہتے ہیں تو یہ ملک کی بدقسمتی ہوگی اور آئندہ نسلیں آپ کو معاف نہیں کریں گی۔ آپ کا یہ حق بنتا ہے کہ آپ حکومت میں بڑے لوگوں سے ان کی ذمہ داری پر سوال اٹھائیں۔

Loading...

ملک کا مفاد پارٹی کے مفاد سے بڑا ہے۔ میں پارٹی کے سرکردہ رہنما لال کرشن آڈوانی اور مرلی منوہر جوشی سے خاص طور سے درخواست کررہا ہوں کہ وہ وسیع تر قومی مفاد میں قدم اٹھائیں اور ان اقدار کی حفاظت کریں جن کے لئے انہوں نے ہمیشہ ہی غیر معمولی قربانی دی ہے تاکہ ملک کے لئے بروقت صحیح اقدامات کئے جا سکیں۔ بی جے پی رہنما نے یہ بھی کہا کہ 2014 کے لوک سبھا انتخابات میں پارٹی کی جیت کے لئے سب سے نے مل جل کر سخت محنت کی تھی۔ ہم میں سے کچھ لوگ سال 2004 سے ہی ترقی پسند اتحاد حکومت کے خلاف پارلیمنٹ اور پارلیمنٹ سے باہر لڑرہے تھے۔ لیکن کچھ لوگ اپنی ریاست میں اپنے عہدے کا مزہ اٹھا رہے تھے۔

ہم اس بات سے بہت خوش تھے کہ 2014 کے انتخابات کے بعد ملک کی تاریخ میں ایک نئے سنہری باب کا آغاز ہوگا اور اس لئے ہم نے وزیراعظم اور ان کی ٹیم کی حمایت کی تھی۔ لیکن گزشتہ چار سال میں سب کی امیدیں ٹوٹ گئیں۔

Loading...