உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    چارروزہ عالمی کانفرنس:اردو کی خدمت کے کام اداروں سے نہیں ارادوں سے ہوتے ہیں، مقررین کاخطاب

    دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید نے وہ کام کیا ہے جو بڑے بڑے ادارے نہیں کرسکتے لیکن اس طرح کے کام ادارے نہیں بلکہ ارادوں سے ہوتا ہے انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے آئے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا

    دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید نے وہ کام کیا ہے جو بڑے بڑے ادارے نہیں کرسکتے لیکن اس طرح کے کام ادارے نہیں بلکہ ارادوں سے ہوتا ہے انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے آئے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا

    دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید نے وہ کام کیا ہے جو بڑے بڑے ادارے نہیں کرسکتے لیکن اس طرح کے کام ادارے نہیں بلکہ ارادوں سے ہوتا ہے انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے آئے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Share this:
      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی جانب سے منعقدہ چارروزہ عالمی کانفرنس کے تیسرے دن دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو میں سیمینار منعقد ہوا۔ اس موقع پر کرناٹک اردو اکیڈمی کے سابق چیئرمین حافظ کرناٹکی نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔ انہوں نے گل بوٹے کی خدمات کی ستائش کرتے ہوئے کہا کہ فاروق سید نے بچوں کے لئے مثالی کام کیا ہے۔دہلی یونیورسٹی کے شعبہ اردو کے صدر پروفیسر ارتضیٰ کریم نے کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل بوٹے کے ایڈیٹرفاروق سید نے وہ کام کیا ہے جو بڑے بڑے ادارے نہیں کرسکتے لیکن اس طرح کے کام ادارے نہیں بلکہ ارادوں سے ہوتا ہے انہوں نے کانفرنس میں شرکت کرنے آئے تمام مندوبین کا شکریہ ادا کیا۔

      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب کا دہلی میں عظیم الشیان انعقاد۔(تصویر:نیوز18اردو)۔
      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب کا دہلی میں عظیم الشیان انعقاد۔(تصویر:نیوز18اردو)۔


      کانفرنس کا پہلا دن
      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب کا دہلی میں عظیم الشیان آغازہواتھا۔یادرہے کہ ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی جانب سے سلورجوبلی تقاریب سلسلہ کے تحت 4 روزہ کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: سمت ورفتار‘‘ منعقد کی جارہی ہے۔ اس کانفرنس کی افتتاحی تقریب ایوان غالب میں منعقد ہوئی تھی جہاں ٹورنٹو، لندن، ماریشس، دبئی اور ایران کے علاوہ ملک کے طول و عرض سے ادبی دانشوروں نے کثیر تعداد میں شرکت کی، حیدرآباد سے مولانا محمد رحیم الدین انصاری صدر نشین تلنگانہ اسٹیٹ اردو اکیڈمی بحیثیت مہمان خصوصی شریک تھے، سردار سلیم، اسلم فرشوری اور شبینہ فرشوری نے حیدرآباد کی بھرپور نمائندگی کی، 23 ستمبر کی شام غالب انسٹی ٹیوٹ میں منعقدہ افتتاحی پروگرام کو مخاطب کرتے ہوئے مولانا محمد رحیم الدین انصاری نے ایڈیٹر ماہنامہ گل بوٹے فاروق سید کی 25سالہ کامیاب ادبی خدمات کو خراج تحسین پیش کیا اور دنیا بھر سے آے ہوئے عاشقان اردو کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ ادب اطفال پر کام کرنا جوئے شیر لانے کے مترادف ہے، قابل مبارکباد ہیں جناب فاروق سید جو بڑی عرق ریزی کے ساتھ ربع صدی سے یہ کام کر رہے ہیں، انہوں نے مزید کہا کہ ہمارا شہر حیدرآباد صدیوں سے اردو کا گہوارہ رہا ہے، تلنگانہ اردو اکیڈمی فروغ اردو کے سلسلے میں ہر ممکنہ اقدام کررہی ہے اور بہت جلد بچوں کا ماہنامہ''روشن ستارے'' کی اشاعت کا بھی کام شروع ہوجاے گا،

      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب:4 روزہ کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: سمت ورفتار‘‘ کے شرکاء۔(تصویر:پریس ریلیز)۔
      ماہنامہ گل بوٹے ممبئی کی سلورجوبلی تقاریب:4 روزہ کانفرنس بعنوان ’’بچوں کا ادب: سمت ورفتار‘‘ کے شرکاء۔(تصویر:پریس ریلیز)۔


      واضح رہے کہ اس اجلاس میں بچوں کے ممتازشاعر حافظ کرناٹکی (سابق صدر نشین کرناٹک اردو اکیڈمی) کے بشمول دیگر حضرات نے بھی تلنگانہ اردو اکیڈمی کی ستائش کی، اجلاس کی صدارت پروفیسراخترالواسع نے کی تھی، دہلی کے وزیر عمران حسین اور دلیپ پانڈے کے علاوہ امتیاز کریمی، حسن چوگلے، شہپر رسول اور مختلف ادبی و سماجی پس منظر رکھنے والی معتبر شخصیات اسٹیج پرموجود تھے، اجلاس کی نظامت کے فرائض قاسم امام نے انجام دیئے، ادب اطفال سے تعلق رکھنے والے ممتاز اور مقبول قلمکار بڑی تعداد میں شریک رہے، مہمانوں کو یادگاری تحائف دیئے گئے اور سراج عظیم کے شکریہ پر اجلاس اختتام کو پہنچا۔
      کانفرنس کا دوسرا دن
      کانفرنس کے دوسرے دن یعنی 24 ستمبرکودہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیمینارمنعقد کیاگیاتھا جس میں کناڈا سے آئے بچوں کے مشہور ادیب پروفیسر ادریس صدیقی نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔انہوں نے بچوں کی کہانیوں کی چھ ہزار سالہ تاریخ کا احاطہ کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کی کہانیاں یا ادب ہر دور میں موجود رہا ہے ، اس کی شکل اور پیش کش بدلتی رہی ہے ، ہندوستان میں بھی ماں کی گود سے ہی بچوں کو کہانیاں سنائے جانے کی روایت رہی ہے ۔ انہوں نے کناڈا کے تعلیمی اداروں اور کتب خانوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ وہاں بچوں میں ادبی دلچسپی پیدا کرنے کے لیے تمام طرح کی کتابیں موجود ہیں اور پبلک لائبریری میں سب سے بڑا گوشہ بچوں کے ادب کا ہوتا ہے ۔ وہاں کتابوں کے ساتھ ساتھ آڈیو بکس ، سنگ الاؤنگ بکس ، فیل اینڈ ٹچ بکس بھی دستیاب ہوتی ہیں ۔
      پروفیسرصدیقی نے سمینار کی سمت کا تعین کرتے ہوئے کہا کہ ہمیں بھی بچوں کے بدلتے مزاج کے مطابق کہانی اور بچوں کے ادب کی پیشکش کو بدلنا ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ جو بچے انٹرنیٹ کی وجہ سے کہانیوں سے دور ہوگئے ہیں ، انہیں ادب کی طرف واپس لانے کے لیے جدید وسائل کا استعمال کرنا ہوگا۔ پروفیسر صدیقی نے ہندوستان کے طریقہ تعلیم کو فرسودہ قرار دیتے ہوئے اس میں بنیادی تبدیلی لانے پر زوردیا۔

       کانفرنس کے دوسرے دن یعنی 24 ستمبرکودہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیمینارمنعقد کیاگیاتھا جس میں کناڈا سے آئے بچوں کے مشہور ادیب پروفیسر ادریس صدیقی نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔
      کانفرنس کے دوسرے دن یعنی 24 ستمبرکودہلی جامعہ ملیہ اسلامیہ میں سیمینارمنعقد کیاگیاتھا جس میں کناڈا سے آئے بچوں کے مشہور ادیب پروفیسر ادریس صدیقی نے کلیدی خطبہ پیش کیا۔


      سمینار میں اردو اکیڈمی دہلی کے وائس چیئرمین پروفیسر شہپر رسول نے پروفیسر صدیقی کی بات کو آگے بڑھاتے ہوئے کہا کہ چار ہزار سال پہلے سے کہانیاں رائج ہیں ، تو ان کی اہمیت آج بھی برقرار ہے ۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ بڑوں کے لیے لکھنے والے بچوں پر بھی توجہ دیں ۔ قومی کونسل برائے فروغ اردو کے ڈائریکٹر ڈاکٹر شیخ عقیل احمد نے افتتاحی جلسے سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ گل بوٹے جیسے ادارے کی خدمات قابل ستائش ہیں ۔ انہوں نے گل بوٹے کے ایڈیٹر فاروق سید کی جانب اشارہ کرتے ہوئے کہا کہ اردو کے پروفیسروں کو ایوارڈ دینے کی بجائے ان جیسے اردو کے خادموں کو ایوارڈ ملنا چاہیے ۔ انہوں نے اردو کی بنیادی تعلیم کو اسکولوں میں پھر سے شروع کرانے کے لیے کونسل کی کوششوں کا ذکر کیا ۔
      First published: