تحقیق: حاملہ خواتین کے سونے کی پوزیشن کا بچوں پر نہیں پڑتا اثر

مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان خواتین میں سے تقریبا 22 فیصد کو حمل کی شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔ بھلے ہی ان کے سونے کی پوزیشن کیسی بھی ہو۔

Sep 16, 2019 01:03 PM IST | Updated on: Sep 16, 2019 01:03 PM IST
تحقیق: حاملہ خواتین کے سونے کی پوزیشن کا بچوں پر نہیں پڑتا اثر

تحقیق: حاملہ خواتین کے سونے کی پوزیشن کا بچوں پر نہیں پڑتا اثر

ایک حالیہ تحقیق سے پتہ چلتا ہے کہ حاملہ خواتین کی سلیپنگ پوزیشن (سونے کی پوزیشن) اور اس کا ان کے بچے پر منفی اثر کے درمیان کوئی تعلق نہیں ہے۔

امراض نسواں کے ماہرین کے ساتھ ہی ساتھ تقریبا ہر دوسرا شخص حاملہ خواتین کو کئی چیزوں پر صلاح دیتا ہے۔ ان میں سب سے عام صلاح میں سے ایک یہ ہے کہ جنین میں خون کے فلو کے نامناسب خطرے سے بچنے کیلئے بائیں طرف کروٹ لیکر سونا۔

لیکن حمل کے پہلے 30 ہفتوں کے دوران 8700 خواتین کے ساتھ کی جانے والی تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ خواتین بائیں ، دائیں یا پیٹھ کی طرف سوئیں، اس سے ان کے ساتھ ہونے والی انہونی  سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

مطالعہ سے پتہ چلتا ہے کہ ان خواتین میں سے تقریبا 22 فیصد کو حمل کی شدید پیچیدگیوں کا سامنا کرنا پڑا۔  بھلے ہی ان کے سونے کی پوزیشن کیسی بھی ہو۔ یعنی حاملہ خواتین کے سونے کی پوزیشن کچھ بھی ہو۔ اس کا ان کے ساتھ ہونے والی پیچیدگیوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

Loading...

یونیورسٹی آف یوٹا اسکول آف میڈیسن میں میٹرنٹی اور ماہر امراض نسواں کے صدر اور مطالعہ کے مصنف ڈاکٹر رابرٹ نے کہا کہ ہم خواتین کو یقین دہانی کرا سکتے ہیں کہ حمل کے پہلے 30 ہفتے کےدوران کسی بھی طرح کی سونے کی پوزیشن محفوظ ہے'۔ چونکہ مطالعہ میں آخر کے 10 ہفتوں کی تفصیل نہیں لی گئی ہے، یہ نہیں کہا جاسکتا کہ آخر کے 10 ہفتوں میں ایسی کوئی مشکل  پیدا نہیں ہوسکتی۔

शोध में खुलासा, प्रेग्नेंट महिलाओं के सोने की पोजिशन का बच्चों पर नहीं पड़ता असर

ڈسکلیمر: اس مضمون میں دی گئیں معلومات عمومی تصورات  پر مبنی ہیں۔ نیوز 18 اردو اس کی تصدیق نہیں کرتا ہے۔ ان پر عمل کرنے سے پہلے متعلقہ ماہرین سے رابطہ قائم کریں۔

Loading...