‘بی جے پی لیڈر کا اعلان- ’اگر تلنگانہ میں بنی حکومت تو بدل دیں گے حیدرآباد کا نام

حال ہی میں تحلیل ہوئی اسمبلی کے رکن راجہ سنگھ نے کہا کہ 16ویں صدی میں اس علاقہ پر حکومت کرنے والے قطب شاہی خاندان کے حکمرانوں نے بھاگیہ نگر کا نام بدل کر حیدرآباد کر دیا تھا

Nov 09, 2018 11:49 AM IST | Updated on: Nov 09, 2018 12:08 PM IST
‘بی جے پی لیڈر کا اعلان- ’اگر تلنگانہ میں بنی حکومت تو بدل دیں گے حیدرآباد کا نام

علامتی تصویر

بھارتیہ جنتا پارٹی کے لیڈر راجہ سنگھ نے جمعرات کے روز کہا کہ اگر پارٹی سات دسمبر کے انتخابات کے بعد تلنگانہ میں اقتدار میں آتی ہے تو وہ خود حیدرآباد سمیت ریاست کے دیگر شہروں کے نام عظیم شخصیات کے نام پر رکھنے کا ’ ہدف‘ رکھے گی۔ پہلا ہدف ترقی ہوگا اور دوسرا ان ناموں کو بدلا جانا چاہئے۔ انہیں ان عظیم شخصیات کے نام پر رکھنا چاہئے جنہوں نے ہمارے ملک یا تلنگانہ کے لئے کام کیا ہے‘۔

حال ہی میں تحلیل ہوئی اسمبلی کے رکن راجہ سنگھ نے کہا کہ 16ویں صدی میں اس علاقہ پر حکومت کرنے والے قطب شاہی خاندان کے حکمرانوں نے بھاگیہ نگر کا نام بدل کر حیدرآباد کر دیا تھا۔ اس کے  علاوہ کئی دیگر مقامات کے نام بدل دئے گئے تھے۔ اس میں سکندرآباد اور کریم نگر بھی شامل ہیں۔

انہوں نے اے آئی ایم آئی ایم کے صدر اسدالدین اویسی کے ذریعہ جمعرات کے روز کئے گئے تبصرہ  کو بھی غلط بتایا۔ واضح ہو کہ اویسی نے کہا تھا کہ بی جے پی صدر امت شاہ ’مسلم مکت‘ ملک بنانا چاہتے ہیں۔ اس پر انہوں نے کہا کہ مسلمانوں کو اویسی پر یقین نہیں کرنا چاہئے جو کئی بار تلنگانہ کے خلاف بول چکے ہیں ۔ اویسی حیدرآباد سے لوک سبھا رکن ہیں۔ قابل غور ہے کہ تلنگانہ میں سات دسمبر کو انتخابات ہونے والے ہیں۔

Loading...

Loading...