کرناٹک کی کانگریس حکومت اقلیتوں کے خلاف درج فرقہ وارانہ کیس لے گی واپس، بی جے پی چراغ پا

کرناٹک میں کانگریس حکومت نے ضلع پولیس سربراہوں اور بعض کمشنرز کو ایک سرکلر بھیجا ہے جس میں ان سے فرقہ وارانہ تشدد کے ملزمین کے خلاف کیس واپس لینے کی رائے مانگی گئی ہے۔

Jan 27, 2018 01:00 PM IST | Updated on: Jan 27, 2018 01:00 PM IST
کرناٹک کی کانگریس حکومت اقلیتوں کے خلاف درج فرقہ وارانہ کیس لے گی واپس، بی جے پی چراغ پا

کرناٹک کے وزیر اعلی سدارمیا: فائل فوٹو۔

بنگلورو۔ کرناٹک میں ایک سرکاری سرکلر نے کانگریس اور بی جے پی کے درمیان ایک نیا تنازع پیدا کر دیا ہے۔ حکومت نے ضلع پولیس سربراہوں اور بعض کمشنرز کو ایک سرکلر بھیجا ہے جس میں ان سے فرقہ وارانہ تشدد کے ملزمین کے خلاف کیس واپس لینے کی رائے مانگی گئی ہے۔

بی جے پی کا الزام ہے کہ کانگریس ایسے اقدامات کر کے فرقہ وارانہ تشدد کے ملزم کچھ مسلمانوں کی مدد کررہی ہے۔ جبکہ کانگریس نے اسے بی جے پی کا جھوٹا پروپیگنڈہ قرار دیا ہے۔ یہ سرکلر انسپکٹر جنرل آف پولیس شیو پرکاش نے 22 ایس پی اور کچھ کمشنر کو بھیجا ہے۔

Loading...

بی جے پی کی ممبر پارلیمنٹ شوبھا کرندلاجے نے کرناٹک کے وزیر اعلی سدارمیا پر الزام لگاتے ہوئے کہا ہے کہ ان کی حکومت اقلیتوں کو خوش کرنے کے لئے سیاست کر رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "اگر یہ مسلمانوں کو خوش کرنے کی سیاست نہیں ہے تو پھر کیا ہے؟" سدارمیا حکومت صرف ووٹ لینے کے لئے سنگین معاملوں میں پھنسے لوگوں کو بچانے کی کوشش کر رہی ہے۔ ہم اس کے خلاف لڑائی لڑیں گے۔

جواب میں بی جے پی پر حملہ بولتے ہوئے وزیر اعلی نے کہا کہ ان کی حکومت کسانوں اور کنڑ کارکنوں کے خلاف بھی کیس واپس لے رہی ہے۔ انہوں نے کہا، "ہم لوگ صرف مسلمانوں ہی نہیں بلکہ تمام بے قصور افراد کے خلاف کیس واپس لے رہے ہیں۔" بی جے پی کو کرناٹک میں شکست کا ڈر ستا رہا ہے، اس لئے وہ جھوٹ پھیلا رہی ہے۔

Loading...