உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    13 سال بعد بھی Pakistan کا دورہ کرنے سے خوف میں ہیں کھلاڑی، سری لنکا کرکٹ ٹیم کی بس پر ہوا تھا دہشت گردانہ حملہ، ایسے پہنچایا تھا بس کو اسٹیڈیم

    On This Day in 2009:  گولیوں کی آواز سن کر بس میں بیٹھے تمام کھلاڑی سیٹ کے نیچے جھک گئے۔ گولیوں کے بوچھار سے بس کی کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ داد دینی پڑتی ہے ان سکیورٹی اہلکاروں کو، جنہوں نے جوابی فائرنگ کی اور بس کو روکے بغیر اسٹیڈیم کے اندر لے گئے۔ اس واقعے کے بعد میچ فوری طور پر رد کر دیا گیا۔

    On This Day in 2009: گولیوں کی آواز سن کر بس میں بیٹھے تمام کھلاڑی سیٹ کے نیچے جھک گئے۔ گولیوں کے بوچھار سے بس کی کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ داد دینی پڑتی ہے ان سکیورٹی اہلکاروں کو، جنہوں نے جوابی فائرنگ کی اور بس کو روکے بغیر اسٹیڈیم کے اندر لے گئے۔ اس واقعے کے بعد میچ فوری طور پر رد کر دیا گیا۔

    On This Day in 2009: گولیوں کی آواز سن کر بس میں بیٹھے تمام کھلاڑی سیٹ کے نیچے جھک گئے۔ گولیوں کے بوچھار سے بس کی کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ داد دینی پڑتی ہے ان سکیورٹی اہلکاروں کو، جنہوں نے جوابی فائرنگ کی اور بس کو روکے بغیر اسٹیڈیم کے اندر لے گئے۔ اس واقعے کے بعد میچ فوری طور پر رد کر دیا گیا۔

    • Share this:
      sri lanka cricket team attacked: یوں تو آسٹریلیائی کرکٹ ٹیم اس وقت (Australia Tour Of Pakistan) بھلے ہی پاکستان کے دورے پر ہے لیکن اس کے ذہن میں سکیورٹی کے حوالے سے کئی سوالات اب بھی اٹھ رہے ہوں گے۔ دراصل آج سے ٹھیک 13 سال قبل یعنی 3 مارچ 2009 کو پاکستان کے دورے پر گئی سری لنکا کی کرکٹ ٹیم(Sri Lanka vs Pakistan) کی بس پر دہشت گردانہ حملے نے پوری دنیا کو ہلا کر رکھ دیا تھا۔ یہ وہ لمحہ تھا جسے کسی بھی کرکٹ شائقین کے لیے بھلانا آسان نہیں ہے۔ اس جان لیوا حملے کے بعد پاکستان میں کئی سالوں تک بین الاقوامی کرکٹ رک گیا تھا۔

      پاکستان آج بھی اس سے نہیں ابر پایا ہے۔
      کرکٹ تاریخ میں آج کا دن یعنی 3 مارچ کو شاید ہی کوئی کرکٹ فینس یاد کرنا چاہے گا۔ اس دن کو کرکٹ کا سیاہ دن کہا جاتا ہے۔ اس دن سال 2009 میں پاکستان کے لاہور میں سری لنکا کرکٹ ٹیم (Sri Lanka Cricket Team) کی بس پر دہشت گردانہ حملہ ہوا تھا، جس میں 8 پولیس اہلکار مارے گئے تھے جبکہ 6 کھلاڑی زخمی ہوگئے تھے۔ اس دہشت گردانہ حملے سے پاکستان آج بھی نہیں ابر پایا ہے۔ ملک میں کئی سال تک بین الاقوامی کرکٹ بھی رک گیا تھا۔ 13 سال بعد بھی دنیا کی بیشتر ٹیمیں پاکستان کا دورہ کرنے سے انکار کر رہی ہیں۔ اس سے پی سی بی (Pakistan Cricket Board) کے آمدنی کو بھاری نقصان ہوا ہے۔

      20 ہزار ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔
      پی سی بی کا ماننا ہے کہ اس سے اسے تقریباً 20 ہزار ڈالر سے زیادہ کا نقصان اٹھانا پڑا۔ کھلاڑیوں کو تنخواہ دینا مشکل ہو گیا تھا۔ کمائی چوپٹ ہونے سے اس نے اپنے اسٹاف میں کٹوتی کی۔ پاکستان آج بھی اپنے گھریلو میچوں کا انعقاد متحدہ عرب امارات میں کرتا ہے۔ اس نے پاکستان سپر لیگ کے کئی سیزن یواے ای میں منعقد کئے۔ محصولات کی بھاری بھرکم نقصان کی بھرپائی کے لئے پاکستان کرکٹ بورڈ اب زیادہ سے زیادہ میچ اپنے گھر میں کھیلنا چاہتا ہے۔ موجودہ وقت میں آسٹریلیا کی ٹیم پاکستان دورے پر ہے۔ آسٹریلیا نے 24 سال بعد پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ کنگارو ٹیم آج بھی پاکستان کا دورہ کرنے میں ہچکچاتی ہے۔

      کھلاڑیوں نے اس طرح جان بچائی
      گولیوں کی آواز سن کر بس میں بیٹھے تمام کھلاڑی سیٹ کے نیچے جھک گئے۔ گولیوں کے بوچھار سے بس کی کھڑکیاں ٹوٹ رہی تھیں۔ داد دینی پڑتی ہے ان سکیورٹی اہلکاروں کو، جنہوں نے جوابی فائرنگ کی اور بس کو روکے بغیر اسٹیڈیم کے اندر لے گئے۔ اس واقعے کے بعد میچ فوری طور پر رد کر دیا گیا۔

      یہ کھلاڑی زخمی ہوئے۔
      اس دہشت گردانہ حملے میں سری لنکائی ٹیم کے اس وقت کے کپتان مہیلا جے وردھنے، نائب کپتان کمار سنگاکارا، تھیلان سمرویرا سمیت 6 بڑے کھلاڑی شدید زخمی ہوئے۔ بلے باز تھرنگا پراناویتھا کو سینے میں چوٹ لگی تھی جبکہ تھیلان سمرویرا کے پاؤں میں گولی لگی تھی۔

      6 سال بعد ہوئی بین الاقوامی کرکٹ کی بحالی
      کھلاڑیوں پر دہشت گردانہ حملے نے پوری دنیا میں پاکستان کی شبیہ خراب کردی تھی۔ اس سے دنیا کی کرکٹ ٹیموں میں اتنا خوف بیٹھ گیا کہ کئی سال تک کسی بھی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔ حالانکہ گزشتہ ایک دو سال میں کچھ نے ہمت کی ہے۔ حملےل کے 6 سال بعد یعنی 2015 میں پاکستان میں بین الاقوامی کرکٹ بحال ہوا۔ اس کے بعد مارچ 2017 میں سخت سیکورٹی کے درمیان پاکستان سپرلیگ کا فائنل میچ کھیلا گیا۔ 8 سال بعد سری لنکا کی ٹیم نے پھر پاکستان کا دورہ کیا، جہاں اس نے میزبان ٹیم کے ساتھ واحد بین الاقوامی میچ کھیلے۔

      ہندوستان کے نہیں جانے سے برباد ہوجائے گا پی سی بی
      پاکستان کو سال 2025 میں چمپئنز ٹرافی کی میزبانی ملی ہے۔ حالانکہ ابھی سے اس کے انعقاد کو لے کر خدشہ ہے کہ کیا پڑوسی ملک پاکستان آئی سی سی کے اس مشہور ٹورنامنٹ کا کامیاب انعقاد کر پائے گا؟ دوسرا سوال یہ کہ کیا ہندوستان ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی؟ اگر ٹیم انڈیا پڑوسی ملک کا دورہ نہیں کرتی ہے تو، پہلے سے کنگال پاکستان کرکٹ بورڈ برباد ہوجائے گا۔ پی سی بی کے نئے سربراہ رمیز راجہ بھی یہ بات اچھی طرح جانتے ہیں، تبھی تو انہوں نے حال ہی میں بیان دیا تھا کہ ہندوستان چاہے تو پی سی بی کو برباد کرسکتا ہے۔
      Published by:Sana Naeem
      First published: