محمد سراج کے ابتدائی کرئیر میں ہوا تھا انوکھا’چمتکار‘، جس سے بدل گئی تھی گیندباز کی قسمت

محمد سراج کے ابتدائی کرئیر میں ہوا تھا انوکھا’چمتکار‘، جس سے بدل گئی تھی گیندباز کی قسمت(AP)

محمد سراج کے ابتدائی کرئیر میں ہوا تھا انوکھا’چمتکار‘، جس سے بدل گئی تھی گیندباز کی قسمت(AP)

میں اس وقت نیا نیا ٹیم میں ٹھا، کسی نے میرے بات پر بھروسہ نہیں کیا۔ سبھی کو لگا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔‘ اس وقت کوچ نے مجھ سے کہا کہ، اگر تم یہاں نہیں آؤگے تو ٹیم سے باہر ہوجاؤگے

  • News18 Urdu
  • Last Updated :
  • Hyderabad, India
  • Share this:
    محمد سراج نے کافی کم وقت میں انٹرنیشنل کرکٹ میں اپنی شناخت قائم کرلی ہے۔ حالیہ ونڈے سیریز میں سراج دنیا کے نمبر ون گیندباز بن کر ابھرے۔ اس وقت سراج ہندوستانی ٹیم کے اہم کھلٓری ہیں۔ لیکنس راج کے لیے ٹیم انڈیا میں آنے کا سفر کافی مشکل بھرا رہا ہے۔ ٹسٹ کرکٹ میں ڈیبیو کرنے سے پہلے ہی ان کے والد انتقال کرگئے تھے۔ وہیں، اب سراج نے اپنے ابتدائی دنوں کے جدوجہد کو یاد کیا ہے۔ ’بریک فاسٹ ود چمپئنس‘ کے نئے شو میں سراج نے اپنے جدوجہد کے دنوں کو یاد کیا اور کہا کہ، انہوں نے 19 سال کی عمر تک ٹینس بال سے کرکٹ کھیلی تھی۔ لیدر بال اور جوتے پہن کر کھیلنے کا پہلا تجربہ انہیں سال 2019 کے بعد سے ہوا۔

    اس ٹاک شو میں سراج نے ایک دلچسپ واقعہ بھی بتایا کہ کیسے ان کا انتخاب انڈر23 ٹیم میں ہوا۔ سراج نے شو میں بتایا کہا نڈر 23 ٹیم میں جب ان کا انتخاب ہوا تھا تو اس وقت انہیں ڈینگیو ہوگیا تھا۔ جب ٹیم انڈر 23 کھیلنے کے لیے جارہی تھی تو وہ اسپتال میں تھے۔ ’میں ٹینشن میں تھا، میرے بلڈ سیلس کافی کم ہوگئے تھے، اگر میں اسپتال اس وقت نہیں جاتا تو میں، مر بھی سکتا تھا۔ اس وقت تب میں نے ٹیم کے کوچ کو یہ بات بتائی کہ میں اسپتال میں ہوں، ٹیم کے ساتھ نہیں آسکتا ہوں۔ میں اس وقت نیا نیا ٹیم میں ٹھا، کسی نے میرے بات پر بھروسہ نہیں کیا۔ سبھی کو لگا کہ میں جھوٹ بول رہا ہوں۔‘ اس وقت کوچ نے مجھ سے کہا کہ، اگر تم یہاں نہیں آؤگے تو ٹیم سے باہر ہوجاؤگے، تب میں کافی ٹینشن میں آگیا۔‘

    Mohammed Siraj के शुरूआती करियर में हुआ था अनोखा 'चमत्कार', जिससे बदल गई थी गेंदबाज की किस्मत

    یہ بھی پڑھیں:

    ایسا ہوا تو پنجاب کنگس کی امیدوں پر پانی پھیر دے گی دلی کیپٹلس، بن رہی ہے ایسی صورتحال

    سراج نے آگے بتایا کہ تب میں نے اپنے والد کو اٹھایا اور کہا کہ، ہمیں پریکٹس کے لیے جانا ہوگا، نہیں تو وہ ہمیں ٹیم سے باہر کردیں گے پاپا نے کہا، ‘پکا جائے گا، تو گیند ڈال پائے گا ناں۔۔۔‘ میں نے اس وقت کہا کہ، ہاں میں کوشش کروں گا، ہم لوگ پریکٹس کے لیے وہاں گئے تو میری ہمت جواب دے گئی تھی، لیکن بالنگ تو ڈالنا ہے، دھیرے دھیرے کرکے میں نے گیندبازی کرنا شروع کی۔‘

    یہ بھی پڑھیں:

    ’مانو کسی مصور نے اچانک بنادی خوبصورت تصویر‘، سوریہ کمار کے اس چھکے سے سچن بھی ہوئے حیران

    سراج نے بتایا کہ ’پریکٹیس میں میں نے 100 فیصد بالنگ کی، مجھے کمزوری نہیں لگی، بعد میں میں نے جانچ کرائی تو ڈینگیو راتو رات ختم ہوگیا تھا، جو چمتکار ہوتے ہیں، نہ اس وقت مجھے لگا، کہ واقعی چمتکار ہوتے ہیں۔‘
    Published by:Shaik Khaleel Farhaad
    First published: