உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    طالبان راج میں کرکٹ کو کوئی خطرہ نہیں، چیزیں ہوں گی بہتر: سابق کرکٹروں کا دعویٰ

    سابق کرکٹروں اور کوچوں کا ماننا ہے کہ اس اتھل پتھل کے باوجود افغانستان کا کرکٹ محفوظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کرکٹ اور کٹروں سے پیار کرتے ہیں۔

    سابق کرکٹروں اور کوچوں کا ماننا ہے کہ اس اتھل پتھل کے باوجود افغانستان کا کرکٹ محفوظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کرکٹ اور کٹروں سے پیار کرتے ہیں۔

    سابق کرکٹروں اور کوچوں کا ماننا ہے کہ اس اتھل پتھل کے باوجود افغانستان کا کرکٹ محفوظ ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ طالبان کرکٹ اور کٹروں سے پیار کرتے ہیں۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان میں طالبان (Taliban) کے قبضے کے بعد سے پورے ملک میں افراتفری کا ماحول ہے۔ بہت سے لوگ وہاں سے بھاگنے کی کوشش کر رہے ہیں تو وہیں ملک کے کھلاڑی اپنی فیملی کے ساتھ ساتھ کھیل سے متعلق بھی کافی تشویش کا اظہار کر رہے ہیں۔ کچھ وقت پہلے ہی بین الاقوامی کرکٹ میں پہچان بنانے والے افغان کرکٹ (Afghanistan Cricket) پر بھی سبھی کی نگاہیں مرکوز ہیں۔ افغانستان کے کئی کرکٹر آئی پی ایل اور دوسری غیر ملکی لیگ میں کھیلتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی بین الاقوامی کرکٹ میں بھی افغانستان نے اپنا وجود بنا لیا ہے۔ اکتوبر - نومبر میں آئی سی سی ٹی-20 عالمی کپ کھیلا جانا ہے، جسے لے کر بھی تعطل کی کی صورتحال بنی ہوئی ہے۔

      سابق کرکٹروں اور کوچوں کا ماننا ہے کہ اس اتھل پتھل کے باوجود افغانستان کا کرکٹ محفوظ ہے۔ افغانستان کے سابق کرکٹر خالق داد نوری نے ٹائمس آف انڈیا کو دیئے انٹرویو میں کہا، ’کرکٹ اس وقت افغانستان کھیل کمیٹی کے ساتھ رجسٹرڈ تھا، جب طالبان افغانستان پر اقتدار کر رہا تھا (1996 سے 2001 تک)۔ افغانستان کرکٹ بورڈ قیادت کے نظریے سے چیزیں بہتر ہوں گی۔ گزشتہ دو سال سے افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی، فرحان یوسف زئی) کے صدر لندن سے اے سی بی چلا رہے تھے۔ وہ دفتر نہیں آرہے تھے اور انتظامیہ میں خراب کرکٹ تجربہ والے لوگوں کی تقرری کر رہے تھے‘۔

      سابق کرکٹر خالق داد نوری نے مزید کہا، ’ گزشتہ دو تین سالوں سے افغانستان میں مناسب گھریلو کرکٹ نہیں تھا۔ گھریلو کرکٹ کا ڈھانچہ خستہ حال تھا۔ افغانستان میں اب کرکٹ صرف اوپر جائے گا‘۔ وہیں حال ہی میں انگلینڈ کے سابق بلے باز کیون پیٹرسن نے کہا تھا کہ افغانستان کے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان اس وقت انگلینڈ میں ہیں اور ’دی ہنڈریڈ‘ ٹورنامنٹ کھیل رہے ہیں۔ پیٹرسن نے کہا تھا کہ راشد خان (Rashid Khan) افغانستان میں رہ رہی اپنی فیملی کے لئے فکر مند ہیں، لیکن اس پر خالق داد نوری نے یقین دہانی کرائی کہ چیزیں اتنی بری نہیں ہیں، جتنی اس وقت دکھائی دے رہی ہیں۔

      انہوں نے کہا، ’لوگ طالبان سے ڈر رہے ہیں۔ یہاں تک کہ میں بھی ڈرا ہوا تھا، جب انہوں نے کابل میں داخلہ لیا تھا۔ میں نے اپنی فیملی سے سامانا پیک کرنے اور ملک چھوڑنے کے لئے کہا تھا، لیکن اب یہاں امن وامان ہے۔ ایک دن اپنے گھر میں رہنے کے بعد میں نے باہر آنے کا فیصلہ کیا اور میں بغیر کسی ڈر کے سڑک پر گھوم رہا ہوں‘۔

      سال 2010 سے 2018 تک افغانستان کے بلے بازی کوچ رہے امیش پٹوال نے کہا، ’میں نے سمیع اللہ شنواری، حضرت اللہ ججئی، محمد نبی اور راشد خان کو پیغام دیا کہ کسی کی بھی فیملی خطرے میں نہیں ہے۔ میں کچھ بار کابل گیا ہوں اور مجھے بتایا گیا کہ طالبان کو کرکٹ اور کرکٹر سے پیار ہے۔ وہیں، افغان کرکٹ بورڈ کے سی ای او حامد شینواری کا دعویٰ ہے کہ طالبان سے افغانی کرکٹروں اور ان کی فیملی کو کوئی خطرہ نہیں ہے۔ شینواری نے کہا کہ طالبان کو کرکٹ پسند ہے اور ٹیم ٹی-20 عالمی کپ میں حصہ لے گی۔

      واضح رہے کہ بین الاقوامی کرکٹ کنٹرول بورڈ افغانستان کرکٹ بورڈ کے رابطے میں ہے اور صورتحال پر نظر بنائے ہوئے ہے۔ حالانکہ افغانستان کے کئی کھلاڑی طالبان کے قبضے سے فکر مند ہیں۔ طالبان اب افغانستان کے کرکٹ بورڈ کے آفس میں بھی گھس گیا ہے۔ جمعرات کو طالبانی جنگجووں کے ساتھ سابق افغانی کرکٹر عبداللہ مزاری (Abdullah Mazari) بھی افغانستان کرکٹ بورڈ کے ہیڈ آفس پہنچے تھے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: