உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    'ہمیں مرنے کیلئے نہ چھوڑیں...' افغانستان کے اسٹار کرکٹر راشد خان کی عالمی لیڈروں سے اپیل

    افغانستان کے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان (Rashid Khan) نے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی ۔ عالمی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ لوگ امن چاہتے ہیں ، لیکن حملوں میں اب تک ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحران میں مت چھوڑیں ۔ افغانوں کو مارنا بند کریں ۔

    افغانستان کے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان (Rashid Khan) نے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی ۔ عالمی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ لوگ امن چاہتے ہیں ، لیکن حملوں میں اب تک ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحران میں مت چھوڑیں ۔ افغانوں کو مارنا بند کریں ۔

    افغانستان کے اسٹار لیگ اسپنر راشد خان (Rashid Khan) نے اپنے ملک کے لوگوں کے لیے ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی ۔ عالمی رہنماؤں سے اپیل کرتے ہوئے انہوں نے لکھا کہ لوگ امن چاہتے ہیں ، لیکن حملوں میں اب تک ہزاروں خاندان بے گھر ہو چکے ہیں ۔ انہوں نے کہا کہ ہمیں بحران میں مت چھوڑیں ۔ افغانوں کو مارنا بند کریں ۔

    • Share this:
      نئی دہلی : افغانستان میں حالات کافی خراب ہو گئے ہیں ، جہاں طالبان اور حکومتی فوجی دستوں کے درمیان شدید جنگ جاری ہے ۔ طالبان نے ملک کے باہری حصوں پر قبضہ کر لیا ہے اور اب وہ صوبوں کے دارالحکومتوں کی طرف بڑھ رہے ہیں ۔ حالات یہ ہیں کہ طالبان نے افغانستان کے 80 فیصد حصے پر یا تو قبضہ کر لیا ہے یا اس کیلئے لڑائی جاری ہے ۔ امریکی افواج کے انخلا کے بعد سے حالات خراب ہو گئے ہیں ۔ اب افغانستان کے کرکٹر راشد خان نے عالمی رہنماؤں سے اپنے ملک کے لوگوں کے لئے جذباتی اپیل کی ہے۔

      22 سالہ اسٹار اسپنر راشد خان نے اپنے ٹوئٹر اکاؤنٹ سے ایک جذباتی پوسٹ شیئر کی ہے ۔ انہوں نے لکھا : 'دنیا کے لیڈران ، ​​میرا ملک مشکل میں ہے ، بچوں اور خواتین سمیت ہزاروں بے گناہ لوگ روزانہ شہید ہو رہے ہیں ، گھر اور املاک تباہ ہو رہی ہیں ۔



      ہندوستان کے آئی پی ایل ، پاکستان کے پی ایس ایل ، آسٹریلیا کے بی بی ایل سمیت دنیا بھر میں کئی فرنچائزی لیگز میں کھیلنے والے لیگ اسپنر نے مزید لکھا کہ لوگ امن چاہتے ہیں ۔ راشد خان نے لکھا  : حملوں کی وجہ سے ہزاروں خاندان بے گھر ہو گئے ہیں ، ہمیں مشکل میں مت چھوڑیں ، افغانوں کو مارنا بند کریں اور افغانستان کو تباہ نہ کریں ، ہم امن چاہتے ہیں ۔

      بتادیں کہ افغان سیکورٹی فورسیز اور طالبان کے درمیان جنگ نے کئی خاندانوں کو بے گھر کر دیا ہے اور بچوں اور خواتین کی ایک بڑی تعداد کو بھی نشانہ بنایا گیا ہے ۔ یہاں تک کہ بچوں کو زبردستی مسلح تنظیموں میں بھرتی کیا جا رہا ہے ۔ دریں اثنا افغانستان میں اقوام متحدہ کے ادارے یونیسیف کے نمائندے ہروے لوڈوچ نے ایک بیان میں کہا ہے کہ افغانستان میں گزشتہ 72 گھنٹوں کے دوران 20 بچوں کی موت ہوئی ہے اور 130 زخمی ہوئے ہیں ۔ وہیں یو این ایچ سی آر کے مطابق گزشتہ ماہ میں افغانستان میں 35000 سے زائد خاندان بے گھر ہوئے ہیں ۔
      Published by:Imtiyaz Saqibe
      First published: