உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ: 14 گیند، 8 ڈاٹ بال... 4 وکٹ اور دلا دی افغانستان کو سب سے بڑی جیت

    راشد خان کی قاتلانہ گیند باز کی بدولت افغانستان کو ملی آسان جیت

    راشد خان کی قاتلانہ گیند باز کی بدولت افغانستان کو ملی آسان جیت

    AFG vs SCO T20 World Cup 2021: ٹی-20 کرکٹ کے سب سے خطرناک گیندبازوں میں سے ایک راشد خان۔ راشد خان نے میچ میں صرف 14 گیند ہی پھینکی، لیکن اس میں ہی پورا کھیل پلٹ دیا۔ اس لیگ اسپنر نے 2.2 اوور میں 8 ڈاٹ بال پھینکی اور 3.85 کی اکنامی سے 9 رن دے کر کل 4 وکٹ حاصل کرلئے۔

    • Share this:
      نئی دہلی: افغانستان کو ٹی-20 فارمیٹ کی سب سے خطرناک ٹیموں میں سے ایک کیوں مانا جاتا ہے۔ اس کا نمونہ ٹی-20 عالمی کپ میں پیر کو اسکاٹ لینڈ (AFG vs SCO T20 World Cup 2021) کے خلاف ہوئے مقابلے میں نظر آیا۔ پہلے افغانستان کے بلے بازوں نے طوفانی 190 رن بنا ڈالے اور پھر گیند بازوں نے 60 رنوں پر اسکاٹ لینڈ کو آوٹ کرکے رنوں کے لحاظ سے ٹی-20 میں سب سے بڑی جیت درج کی۔ اس ایک جیت کے ساتھ افغانستان گروپ -2 میں ٹاپ پر آگیا ہے۔ اس کا نیٹ رن ریٹ 6.500 ہے۔ وہیں پاکستان دوسرے اور ہندوستان تیسرے مقام پر ہے۔

      افغانستان کی جیت میں جتنا تعاون بلے بازوں کا رہا، اتنا ہی گیند بازوں کا بھی رہا۔ خاص طور پر ٹی-20 کے سب سے خطرناک گیندبازوں میں سے ایک راشد خان۔ راشد خان نے میچ میں صرف 14 گیند ہی پھینکی، لیکن اس میں ہی پورا کھیل پلٹ دیا۔ اس لیگ اسپنر نے 2.2 اوور میں 8 ڈاٹ بال پھینکی اور 3.85 کی اکنامی سے 9 رن دے کر کل 4 وکٹ حاصل کرلئے۔ اس میں دو وکٹ تو انہوں نے دو گیندوں پر لئے۔ اس کارکردگی کے بعد راشد خان کے 52 میچوں میں 99 وکٹ ہوگئے ہیں اور موجودہ وقت میں کھیلنے والے کرکٹروں میں صرف شکیب الحسن کے بین الاقوامی ٹی-20 میں ان سے زیادہ 117 وکٹ ہیں۔

       راشد خان کا بین الاقوامی ٹی-20 میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے ٹاپ-5 گیندبازوں میں اسٹرائیک ریٹ سب سے بہتر ہے۔ وہ ٹی-20 میں ہر 12 گیندوں میں ایک وکٹ لے رہے ہیں۔

      راشد خان کا بین الاقوامی ٹی-20 میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے ٹاپ-5 گیندبازوں میں اسٹرائیک ریٹ سب سے بہتر ہے۔ وہ ٹی-20 میں ہر 12 گیندوں میں ایک وکٹ لے رہے ہیں۔


      راشد خان کا بین الاقوامی ٹی-20 میں سب سے زیادہ وکٹ لینے والے ٹاپ-5 گیندبازوں میں اسٹرائیک ریٹ سب سے بہتر ہے۔ وہ ٹی-20 میں ہر 12 گیندوں میں ایک وکٹ لے رہے ہیں۔ انہوں نے اب تک اپنے ٹی-20 کیریئر میں 4 بار 4 وکٹ اور دو بار 5 وکٹ حاصل کئے ہیں۔ راشد خان نے آئی پی ایل 2021 میں بھی اچھی گیند بازی کی تھی۔ ان کی ٹیم سن رائزرس حیدرآباد بھلے ہی اس سیزن میں پھسڈی ثابت ہوئی، لیکن راشد خان نے 14 میچوں میں 18 وکٹ حاصل کئے تھے۔

      راشد خان نے عالمی کپ سے پہلے ٹی-20 ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی تھی

      افغانستان میں طالبان کا اقتدار آنے کے بعد ملک میں کرکٹ سے متعلق حالات کافی تیزی سے بدل رہے تھے۔ یہ بات کسی سے پوشیدہ نہیں ہے۔ ایک وقت تو ایسا لگ رہا تھا کہ افغانستان عالمی کپ نہیں کھیل پائے گا۔ کئی ممالک کے ذریعہ طالبان کا نام لے کر ان کے ساتھ کھیلنے سے انکار کرنے تک کی باتیں آںے لگی تھیں۔ خود راشد خان نے بھی ٹی-20 عالمی کپ کی ٹیم کے اعلان کے کچھ وقت بعد ہی ٹی-20 ٹیم کی کپتانی چھوڑ دی تھی۔ تب انہوں نے کہا تھا کہ ملک کا ذمہ دار شہری اور کپتان ہونے کے ناطے، میرا حق ہے کہ ٹیم سلیکشن کا حصہ بنوں۔ سلیکشن کمیٹی اور افغانستان کرکٹ بورڈ (اے سی بی) نے سلیکشن کرتے وقت میری رضامندی نہیں لی۔ اس لئے میں نے افغانستان ٹی-20 ٹیم سے فوری اثر سے کپتانی کا عہدے چھوڑنے کا فیصلہ کیا ہے۔ حالانکہ اس کا ان کے کیریئر پر کوئی اثر نہیں پڑا۔ کم از کم اسکاٹ لینڈ کے خلاف 4 وکٹ لے کر انہوں نے ہندوستان اور پاکستان کے لئے تو ضرور خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: