உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    10 وکٹ حاصل کرکے بھی ٹیم سے باہر ہونے پر اعجاز پٹیل کا چھلکا درد، کہا- نیوزی لینڈ بھی کرے یہ کام

    اعجاز پٹیل (Ajaz Patel)  ہندوستان کے خلاف حال ہی میں ایک ہی اننگ میں 10 وکٹ حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دے چکےہ ہیں، لیکن بنگلہ دیش کے خلاف گھریلو سریز کے لئے نیوزی لینڈ ٹیم (New Zealand vs Bangladesh) سے باہر ہوگئے ہیں۔

    اعجاز پٹیل (Ajaz Patel)  ہندوستان کے خلاف حال ہی میں ایک ہی اننگ میں 10 وکٹ حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دے چکےہ ہیں، لیکن بنگلہ دیش کے خلاف گھریلو سریز کے لئے نیوزی لینڈ ٹیم (New Zealand vs Bangladesh) سے باہر ہوگئے ہیں۔

    اعجاز پٹیل (Ajaz Patel)  ہندوستان کے خلاف حال ہی میں ایک ہی اننگ میں 10 وکٹ حاصل کرنے کا کارنامہ انجام دے چکےہ ہیں، لیکن بنگلہ دیش کے خلاف گھریلو سریز کے لئے نیوزی لینڈ ٹیم (New Zealand vs Bangladesh) سے باہر ہوگئے ہیں۔

    • Share this:
      آکلینڈ: ہندوستان کے خلاف حال ہی میں ایک ہی اننگ میں 10 وکٹ حاصل کرنے کی حصولیابی حاصل کرنے والے اعجاز پٹیل (Ajaz Patel) بنگلہ دیش کے خلاف گھریلو سریز کے لئے نیوزی لینڈ ٹیم (New Zealand vs Bangladesh) سے باہر ہوگئے ہیں۔ شاندار کارکردگی کے باوجود انہیں ٹیم سے باہر کیوں کیا گیا، وہ اس بات کو بھی سمجھتے ہیں۔ حالانکہ اس درمی ٹیم سے باہر کئے جانے کا ان کا درد بھی چھلک گیا اور انہوں نے نیوزی لینڈ سے بھی اسپن کے لئے مددگار پچ بنانے کی امید ظاہر کی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ آگے سے ملک کے میدان تیار کرنے والے ملازمن بھی اس فن کو بڑھاوا دینے کے لئے اسپنروں کے لئے مددگار پچ بنائیں گے۔

      گھریلو پچیں روایتی طور پر تیز گیند بازی کے لئے مفید ہیں، جس کے سبب ہی اعجاز پٹیل کو ٹیم میں جگہ نہیں دی گئی ہے، لیکن بائیں ہاتھ کے اسپنر نے کہا کہ وہ ٹیم میں اپنے مقام کے لئے کوشش جاری رکھیں گے۔ ’اسٹاف ڈاٹ کو ڈاٹ انجیڈ‘ کے مطابق، اعجاز پٹیل نے کہا کہ نیوزی لینڈ میں میرا اسپنر ہونا اس لئے اہم ہے کہ میں اگلی نسل کو اس فن کو اپنانے کے لئے ترغیب دے سکوں۔

      ٹیم سے باہر کئے جانے کی پہلے سے ہی تھی امید

      اعجاز پٹیل نے کہا کہ میں اب بھی یہ یقینی بنانے کے لئے کوشش کرتا رہوں گا کہ اسپن گیند باز نیوزی لینڈ (New Zealand) کرکٹ کا حصہ بن جائے۔ انہوں نے کہا کہ مجھے لگتا ہے کہ اسپنر کے طور پر میرا کام میدانی ملازمین کو یہ دکھانا ہے کہ کچھ ایسا بھی ہے جو ممکن ہے اور یہ میدانی ملازمین کی باری ہوگی جو کہیں کہ ہاں حقیقت میں ہم نیوزی لینڈ میں کچھ اسپن گیند بازی کو دیکھنا چاہتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ اس تبدیلی کو لانے کی کوشش کرنا ہے۔

      33 سال کے اعجاز پٹیل نے کہا کہ ساتھ ہی ہم محسوس کرتے ہیں کہ ہماری گھریلو صورتحال میں ایسا کرنا مشکل ہوسکتا ہے۔ اعجاز پٹیل نے کہا کہ ٹیم کے حالات کو دیکھتے ہوئے ان کے ٹیم سے باہر کئے جانے کی امید تھی، لیکن وہ پھر بھی تھوڑے مایوس ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہ صرف میری مایوسی کو ظاہر کرنا تھا، کیونکہ مجھے لگتا ہے کہ آپ کو اب بھی خود کو ثابت کرنا ہوگا اور یہ بھی دکھانے میں اہل ہونا چاہئے کہ آپ گھریلو میدان پر نیوزی لینڈ کے لئے ٹسٹ کرکٹ کھیلنے کے لئے جنونی ہوں۔
      قومی، بین الاقوامی اور جموں وکشمیر کی تازہ ترین خبروں کےعلاوہ تعلیم و روزگار اور بزنس کی خبروں کے لیے نیوز18 اردو کو ٹویٹر اور فیس بک پر فالو کریں۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: