உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    حیدرآباد ٹی20 میچ کے ٹکٹوں کی کالا بازاری پر کیا بولے محمد اظہر الدین

    حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اظہر الدین۔

    حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اظہر الدین۔

    حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن کے صدر محمد اظہرالدین نے نامہ نگاروں سے کہا کہ آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے ٹکٹ بیچنے کا کام پے ٹی ایم کمپنی کو سونپا گیا تھا اور کمپنی نے اچھا کام کرنے کے لئے اس کی تعریف کی۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Hyderabad, India
    • Share this:
      حیدرآباد: حیدرآباد کرکٹ ایسوسی ایشن (ایچ سی اے) کے چیئرمین محمد اظہرالدین نے جمعہ کے روز کہا کہ اس ادارے کا ہندوستان-آسٹریلیا ٹی20 کرکٹ میچ کے ٹکٹوں کی کالا بازاری سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ وہیں، اگر یوگیندر گوڑ نے ریاستی انسانی حقوق کمیشن سے وہاں بھگدڑ میں بھگدڑ میں زخمی ہوئے لوگوں کے لئے 20-20 لاکھ روپئے کے معاوضہ کا مطالبہ کیا ہے۔ سکندرآباد کے جم خانہ گراونڈ میں ٹکٹ فروخت کے دوران مچے بھگدڑ میں مداحوں کے زخمی ہونے کے ایک دن بعد سابق ہندوستانی کپتان نے اس بات سے انکار کیا کہ ایچ سی اے نے کچھ بھی غلط کیا ہے۔

      محمد اظہرالدین نے نامہ نگاروں سے کہا کہ آن لائن اور آف لائن دونوں طرح سے ٹکٹ بیچنے کا کام پے ٹی ایم کمپنی کو سونپا گیا تھا اور کمپنی نے اچھا کام کرنے کے لئے اس کی تعریف کی۔ ہندوستان اور آسٹریلیا کے درمیان تیسرا ٹی20 میچ 25 ستمبر کو راجیو گاندھی انٹرنیشنل کرکٹ اسٹیڈیم میں کھیلا جانا ہے۔ انہوں نے انکار کیا کہ ٹکٹ بلیک میں بیچے گئے تھے۔ انہوں نے کہا، ’ان الزامات میں کوئی سچائی نہیں ہے۔ اگر کوئی ٹکٹ کو بلیک کر رہا ہے تو ہم سخت کارروائی کریں گے‘۔

      جم خانہ میں ہوا حادثہ افسوسناک

      محمد اظہر الدین نے کہا کہ اگر کسی نے آن لائن ٹکٹ خریدا ہے اور اسے بلیک میں بیچا ہے، تو ایچ سی اے کا اس سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔ انہوں نے جم خانہ میں جمعرات کے حادثہ کو بدقسمتی والا قرار دیا اور دوہرایا کہ ایچ سی اے زخمیوں کی مدد کرے گا۔ انہوں نے کہا کہ چونکہ حیدرآباد لمبے وقت کے بعد انٹرنیشنل میچ کی میزبانی کر رہا ہے، اس لئے کئی لوگ اسے اسٹیڈیم میں دیکھنے کے لئے پُرجوش ہیں۔ محمد اظہر الدین نے امید کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ یہ دو مضبوط ٹیموں کے درمیان ایک دلچسپ مقابلہ ہونے والا ہے۔ انہوں نے میچ کے کامیاب انعقاد کے لئے سبھی کا تعاون مانگا ہے۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: