ہوم » نیوز » اسپورٹس

آسٹریلیائی ٹیم نے رقم کی تاریخ، اب ٹوٹے گا 17 سال پرانا ورلڈ ریکارڈ

آسٹریلیا کی خاتون کرکٹ (Australia womens team) ٹیم نے تاریخ رقم کردی ہے۔ مسلسل 21 میچوں میں جیت درج کرکے آسٹریلیائی ٹیم نے مسلسل سب سے زیادہ میچوں میں جیت کے ریکارڈ کی برابری کرلی ہے۔ اس ٹیم نے وہ کارنامہ کر ڈالا جو 17 سال پہلے یعنی سال 2003 رکی پونٹنگ نے کیا تھا۔

  • Share this:
آسٹریلیائی ٹیم نے رقم کی تاریخ، اب ٹوٹے گا 17 سال پرانا ورلڈ ریکارڈ
آسٹریلیائی ٹیم نے رقم کی تاریخ، اب ٹوٹے گا 17 سال پرانا ورلڈ ریکارڈ

Auبرسبین: آسٹریلیا کی خاتون کرکٹ (Australia womens team) ٹیم نے تاریخ رقم کردی ہے۔ مسلسل 21 میچوں میں جیت درج کرکے آسٹریلیائی ٹیم نے مسلسل سب سے زیادہ میچوں میں جیت کے ریکارڈ کی برابری کرلی ہے۔ اس ٹیم نے وہ کارنامہ کر ڈالا جو 17 سال پہلے یعنی سال 2003 رکی پونٹنگ نے کیا تھا۔ آسٹریلیا کی خاتون ٹیم نے یہ مقام نیوزی لینڈ کو برسبین میں کھیلے گئے تیسرے ونڈے میں شکست دے کرکیا ہے۔ آسٹریلیا نے تین ونڈے میچوں کی سیریز کے آخری میچ میں نیوزی لینڈ کو 232 رنوں کے بڑے فرق سے شکست دی۔



ٹوٹ جائے ورلڈ ریکارڈ


آسٹریلیا کی خواتین ٹیم کے لئے جیت کا سلسلہ تین سال پہلے سال 2017 میں شروع ہوا تھا، جو اب بھی مسلسل جاری ہے۔ آسٹریلیا نے اس دوران انگلینڈ، پاکستان، ویسٹ انڈیز، سری لنکا اور نیوزی لینڈ کو شکست دی ہے۔ اسی دوران آسٹریلیا کی ٹیم نے کئی میچوں میں یکطرفہ جیت درج کی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو ونڈے سیریز کے آخری میچ میں زبردست شکست کا سامنا کرنا پڑا۔ آسٹریلیا نے پہلے بلے بازی کرتے ہوئے 325 رن بنائے۔ جواب میں نیوزی لینڈ کی ٹیم 27 اووروں میں صرف 93 کے اسکور پر سمٹ گئی۔

مسلسل ونڈے میچوں میں جیت

یہ پہلا موقع نہیں ہے، جب آسٹریلیا کی خاتون ٹیم نے ونڈے میں مسلسل جیت کا ریکارڈ توڑا ہو۔ آسٹریلیا نے اس سے پہلے سال 2018 میں مسلسل 20 میچوں میں جیت درج کی تھی۔ سال 1997 میں آسٹریلیا کی خاتون ٹیم کو مسلسل 17 میچوں میں جیت ملی تھی۔ سال 1999 میں آسٹریلیا کو مسلسل 16 میچوں میں جیت ملی تھی۔ ہندوستان کی خاتون ٹیم نے بھی مسلسل 16 میچوں میں جیت درج کی ہے۔ ہندوستانی ٹیم نے یہ کارنامہ سال 2016 میں انجام دیا تھا۔ رکی پونٹنگ کی کپتانی میں آسٹریلیا کی مینس ٹیم کو مسلسل 21 میچوں میں جیت ملی ہے۔ یہ ایک ورلڈ ریکارڈ ہے، اب یہ ریکارڈ آسٹریلیا کی خاتون ٹیم توڑ سکتی ہے۔

Published by: Nisar Ahmad
First published: Oct 07, 2020 05:36 PM IST