ہوم » نیوز » اسپورٹس

کپتان بننے کے بعد پاکستانی کھلاڑی کا بڑا بیان، کہا- وراٹ کوہلی سے اچھا ان کھلاڑیوں سے کریں میرا موازنہ

پاکستانی کرکٹر بابر اعظم (Babar Azam) کا موازنہ اکثر وبیشتر ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی (Virat Kohli) سے کی جاتی ہے اور وہ خود کا موازنہ ہندوستانی کپتان سے نہیں چاہتے ہیں۔

  • Share this:
کپتان بننے کے بعد پاکستانی کھلاڑی کا بڑا بیان، کہا- وراٹ کوہلی سے اچھا ان کھلاڑیوں سے کریں میرا موازنہ
بابر اعظم کا بڑا بیان، کہا- وراٹ کوہلی سے اچھا ان کھلاڑیوں سے کریں میرا موازنہ

ہندوستانی کپتان وراٹ کوہلی (Virat Kohli) اور پاکستان کے بابر اعظم (Babar Azam) کے درمیان بیشتر موازنہ کیا جاتا ہے۔ بابر اعظم کو پاکستان کا وراٹ کوہلی مانا جاتا ہے۔ وہ اپنے ملک کے لئےہر فارمیٹ میں رن بنا رہے ہیں۔ ان کی شاندار کارکردگی کا انعام پاکستان کرکٹ بورڈ نے انہیں محدود اووروں کا کپتان بناکر دیا اور کپتان بننے کے بعد اب بابر اعظم کا بڑا بیان آیا ہے۔ دراصل بابر اعظم نہیں چاہتے کہ ان کا موازنہ وراٹ کوہلی سے کیا جائے اور کئی بار وہ اس بارے میں بول بھی چکے ہیں۔ انہوں نے ایک بار پھر اس موضوع پر بات کی اور کہا کہ میں وراٹ کوہلی کے ساتھ موازنہ نہیں چاہتا۔ بہتر ہوگا کہ لوگ میرا موازنہ پاکستان کے عظیم کھلاڑی جاوید میانداد، محمد یوسف اور یونس خان سے کریں۔


بابر اعظم کے سامنے اس وقت انگلینڈ کا چیلنج ہے۔ ٹیم 28 جون کو پاکستان سے روانہ ہوئی تھی اور اس وقت انگلینڈ میں کوارنٹائن ہے۔ 14 دن کے بعد کھلاڑی پریکٹس میچ کھیل پائیں گے۔ اظہر علی انگلینڈ کے خلاف تین ٹسٹ میچوں میں پاکستان کی قیادت کریں گے۔ وہیں بابر اعظم تین ٹی -20 میچوں کی سیریز میں ٹیم کی کمان سنبھالیں گے۔ بابر اعظم نے کہا کہ ہم نے گزشتہ انگلینڈ دورے پر کافی اچھی کارکردگی کی تھی۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیم کے کھلاڑی اس سیریز کو لے کافی پُرجوش ہیں۔ ہماری پوری توجہ پہلے ٹسٹ سیریز میں جیت حاصل کرنے پر ہے۔


بابر اعظم کے سامنے اس وقت انگلینڈ کا چیلنج ہے۔ ٹیم 28 جون کو پاکستان سے روانہ ہوئی تھی اور اس وقت انگلینڈ میں کوارنٹائن ہے۔ 14 دن کے بعد کھلاڑی پریکٹس میچ کھیل پائیں گے۔
بابر اعظم کے سامنے اس وقت انگلینڈ کا چیلنج ہے۔ ٹیم 28 جون کو پاکستان سے روانہ ہوئی تھی اور اس وقت انگلینڈ میں کوارنٹائن ہے۔ 14 دن کے بعد کھلاڑی پریکٹس میچ کھیل پائیں گے۔


خاص چیز پر کام کر رہے ہیں بابر اعظم

بابر اعظم کا ماننا ہے کہ سنچری مکمل کرنے کے بعد بلے باز کو اسے بڑے اسکور میں بدلنے کی ضرورت ہے۔ انہوں نے کہا کہ جب وہ سنچری پوری کرلیتے ہیں اور اس کے بعد آپ آگے بڑھنا چاہتے ہیں اور سنچری کو بڑے اسکور میں بدلنا چاہتے ہیں۔ یہ وہی پہلو ہے، جس پر میں کام کر رہا ہوں اور چاہتا ہوں کہ انگلینڈ کے خلاف ٹسٹ سیریز کے دوران ایسا کرسکوں۔

 
First published: Jul 03, 2020 04:09 PM IST
corona virus btn
corona virus btn
Loading