உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ANALYSIS: بابراعظم ہیں 2020s دہائی کے سب سے بڑے کھلاڑی، کوہلی-روہت، پنت-روٹ کوئی نہیں ہے ٹکر میں

    بابر اعظم ہیں 2020s دہائی کے سب سے بڑے کھلاڑی۔ (AFP)

    بابر اعظم ہیں 2020s دہائی کے سب سے بڑے کھلاڑی۔ (AFP)

    Player of Decade: وقت وقت پر ایسے کھلاڑی آتے ہیں، جو کچھ سال نہیں، بلکہ پوری دہائی اپنے کھیل پر راج کرتے ہیں۔ سچن تندولکر، رکی پونٹنگ اور وراٹ کوہلی برسوں گیند بازوں کے لئے سردرد بنے رہے۔ اس ضمن میں بابر اعظم کا نام جڑ گیا ہے۔ کوئی شک نہیں کہ پاکستان کا یہ کرکٹر اس دہائی کا سب سے بڑا کھلاڑی بننے کی طرف  گامزن ہے۔

    • News18 Urdu
    • Last Updated :
    • Delhi, India
    • Share this:
      نئی دہلی: وراٹ کوہلی، روہت شرما، کے ایل راہل، رشبھ پنت، سوریہ کمار یادو… یہ چند وہ نام نہیں ہیں، جو کرکٹ مداحوں کے دلوں پر راز کرتے ہیں۔ خاص طور پر ہندوستانی کرکٹ مداحوں کے۔ لیکن گزشتہ دو ڈھائی سال میں یہ سارے عظیم پاکستان کے بابر اعظم سے پچھڑتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ بابر اعظم نہ صرف ہندوستانی عظیم کرکٹروں، بلکہ دنیا کے ہر بیٹر سے میلوں آگے نکل گئے لگتے ہیں۔ اگر ہم 2020 کی دہائی کی بات کریں تو یہ بھی کہا جاسکتا ہے کہ بابر اعظم اس وقت کے سب سے بڑے کھلاڑی ہیں۔

      کرکٹ ہو یا کوئی اور کھیل۔ وقت وقت پر ایسے کھلاڑی آتے ہیں، جو صرف کچھ سال نہیں، بلکہ پوری دہائی اپنے کھیل پر راج کرتے ہیں۔ گزشتہ تین چار دہائی کی بات کریں تو ہم نے دیکھا کہ کیسے سچن تندولکر، رکی پونٹنگ اور وراٹ کوہلی برسوں گیند بازوں کے لئے سردرد بنے رہے۔ اس ضمن میں بابر اعظم کا نام جڑ گیا ہے۔ سال 2020 کے بعد سے اب تک سب سے زیادہ رن بنانے کے معاملے میں بابر اعظم سب سے آگے ہے۔ بابر اعظم صرف آگے نہیں ہیں، بلکہ انہوں نے دوسرے کھلاڑیوں کے درمیان بڑا فرق پیدا کرلیا ہے۔

       بات سب سے بڑے کرکٹر کی ہو اور وراٹ کوہلی یا روہت شرم کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ سال 2020 کی دہائی میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی ان دونوں کا نام ہے۔

      بات سب سے بڑے کرکٹر کی ہو اور وراٹ کوہلی یا روہت شرم کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ سال 2020 کی دہائی میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی ان دونوں کا نام ہے۔


      اگر آپ انٹرنیشنل کرکٹ پر گہری نظر رکھتے ہیں تو بابر اعظم کو سب سے بڑا کھلاڑی کہے جانے سے متفق ہونا مشکل نہیں ہے۔ لیکن اگر آپ کو یقین نہیں ہو رہا ہے تو ان اعدادوشمار پر نظر ڈال لیجئے۔ یکم جنوری 2020 کے بعد کی کارکردگی کی بات کریں تو بابر اعظم دنیا کے واحد بلے باز ہیں، جنہوں نے 4000 سے زیادہ رن بنائے ہیں۔ دوسرے نمبر پر انگلینڈ کے جو روٹ ہیں، لیکن بابر اعظم اور جوروٹ کے درمیان 537 رنوں کا فرق ہے۔ اس سے اندازہ لگایا جاسکتا ہے کہ بابر اعظم کا موجودہ دہائی میں عالمی کرکٹ پر کیسا دبدبہ رہا ہے۔

      بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی بھی یہی کہتی ہے کہ جب جب ان کا بلا گرجا، پاکستان کو فتح ملی۔
      بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی بھی یہی کہتی ہے کہ جب جب ان کا بلا گرجا، پاکستان کو فتح ملی۔


      بات سب سے بڑے کرکٹر کی ہو اور وراٹ کوہلی یا روہت شرم کا نام نہ آئے، یہ ممکن نہیں۔ سال 2020 کی دہائی میں بہترین کارکردگی پیش کرنے والے کھلاڑیوں کی فہرست میں بھی ان دونوں کا نام ہے۔ حالانکہ اس بات پر افسوس کرسکتے ہیں کہ بابر اعظم کی کارکردگی کے سامنے وراٹ کوہلی یا روہت شرما کافی پیچھے چھوٹ گئے ہیں۔ وراٹ کوہلی اور روہت شرما دونوں نے ہی یکم جنوری 2020 کے بعد سے اب تک برابر 2282 رن بنائے ہیں۔ یعنی، بابر اعظم اور روہت-وراٹ کے درمیان 1700 رنوں سے زیادہ کا فرق ہے۔

      یہ بھی پڑھیں۔

      ہندوستان-پاکستان مقابلے سے پہلے وراٹ کوہلی کے لئے دعا کر رہے ہیں شاہین شاہ آفریدی، VIDEO دیکھیں 
      یہ بھی پڑھیں۔

      Asia Cup 2022: پاکستان کو ہندوستان کے خلاف میچ سے پہلے لگا بڑا جھٹکا، ایک اور گیند باز باہر 

      آگے بڑھنے سے پہلے دو باتیں صاف کرلیتے ہیں۔ پہلا تو یہ کہ ہم یہاں کرکٹ کے کسی ایک فارمیٹ کی بات نہیں کر رہے ہیں۔ ہم نے تینوں فارمیٹ کی کارکردگی کو کھنگالا۔ ویسے بھی کسی ایک فارمیٹ میں اول ہونے اور دوسرے میں اوسط یا کم تر ہونے والے کسی کھلاڑی کو سب سے بڑا کھلاڑی نہیں کہا جاسکتا۔ دوسری بات یہ کہ صرف رن بناکر ہی کوئی کھلاڑی سب سے بہترین ہونے کا درجہ نہیں حاصل کرسکتا۔ سچن تندولکر، رکی پونٹنگ، وراٹ کوہلی کا کھیل دیکھنے والے جانتے ہیں کہ ان کے بلے سے صرف رن نہیں نکلتے تھے یا ہیں، بلکہ جب ان کا بلا چلتا تھا تو ٹیم کی جیت طے ہوجاتی ہے۔ بابر اعظم کی حالیہ کارکردگی بھی یہی کہتی ہے کہ جب جب ان کا بلا گرجا، پاکستان کو فتح ملی۔

      جب وراٹ کوہلی اور روہت شرما کی کارکرگی خراب ہو رہی ہے، تب ہندوستان کے کرکٹ مداح اس اس بات سے خوش ہوسکتے ہیں کہ ایک دیگر ہندوستانی اپنی کارکردگی سے مسلسل آگے بڑھ رہا ہے۔ اس کھلاڑی کا نام ہے رشبھ پنت۔ اس نوجوان وکٹ کیپر بلے باز نے 2020 سے اب تک 60 میچ میں 2337 رن بناے ہیں۔ یعنی وراٹ کوہلی اور روہت شرما سے زیادہ۔ یہ کہنے میں کوئی گریز نہیں ہونا چاہئے کہ جب وراٹ کوہلی اور روہت شرما نے مایوس کیا تب رشبھ پنت سامنے آئے اور ٹیم کو سنبھالا۔ اور یہ بھی نہیں بھولنا چاہئے کہ جس دوران ہندوستان کا ایک بھی بلے باز2500 رن نہیں بناپایا، اس دوران بابر اعظم 4000 رن بناکر ٹاپ پر قائم ہیں۔ اس لئے جب بھی سال 2020 کی دہائی کے سب سے بڑے بیٹر کی بات ہو تو بابر اعظم کا نام مت بھولئے گا۔

       
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: