உங்கள் மாவட்டத்தைத் தேர்வுசெய்க

    ٹی-20 عالمی کپ: بابر اعظم نے کہا- پاکستانی ٹیم خوداعتمادی سے لبریز، سیمی فائنل میں بھی یہی کارکردگی رکھیں گے برقرار

    بابر اعظم نے حسن علی- فخر زماں کے بچاو میں کہا- ہر میچ میں 11 کھلاڑی بہترین کارکردگی نہیں پیش کرسکتے

    بابر اعظم نے حسن علی- فخر زماں کے بچاو میں کہا- ہر میچ میں 11 کھلاڑی بہترین کارکردگی نہیں پیش کرسکتے

    پاکستان نے اسکاٹ لینڈ پر 72 رنوں سے بڑی جیت درج کی اور گروپ ٹاپر کے طور پر ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup-2021) کے سیمی فائنل میں داخلہ حاصل کیا۔ کپتان بابر اعظم (Babar Azam) نےکہا کہ ان کی ٹیم 11 نومبر کو آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے ٹی-20 عالمی کپ کےسیمی فائنل (PAK vs AUS) میچ میں بھی اسی لےکو برقرار رکھنے کی کوشش کرے گی۔

    • Share this:
      شارجہ: خوداعتمادی سے لبریز پاکستانی ٹیم نے ٹی-20 عالمی کپ (T20 World Cup-2021) کے سپر-12 مرحلے میں مسلسل پانچویں جیت درج کی۔ اس نے شارجہ میں کھیلے گئے مقابلے میں اسکاٹ لینڈ کو 72 رنوں کے بڑے فرق سے ہرایا۔ پاکستان نے گروپ ٹاپر کے طور پر سیمی فائنل میں داخلہ حاصل کیا۔ اس مقابلے کے بعد پاکستان کے کپتان بابر اعظم (Babar Azam) نے کہا کہ ان کی ٹیم 11 نومبر کو آسٹریلیا کے خلاف ہونے والے سیمی فائنل (PAK vs AUS) میں بھی اسی لے کو جاری رکھنے کی کوشش کرے گی۔

      کپتان بابر اعظم نے کہا، ’ہم ایک یونٹ کی طرح کھیل رہے ہیں اور ہر کسی کو ہرایک کھلاڑی پر بھروسہ ہے۔ ہم جس طرح کا کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس سے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے‘۔ بابر اعظم نے 66 رن بنائے جبکہ تجربہ کار بلے باز شعیب ملک نے آخر میں 18 گیندوں میں 6 چھکوں اور ایک چوکے سے 54 رنوں کی طوفانی اننگ کھیلی۔ اس سے پاکستان نے 4 وکٹ پر 189 رنوں کا اسکور کھڑا کیا، جس کے جواب میں اسکاٹ لینڈ کی ٹیم 6 وکٹ پر 117 رن ہی بناسکی۔ محمد حفیظ نے بھی اہم موڑ پر بابراعظم کا ساتھ نبھایا اور 31 رنوں کا تعاون دیا۔

      بابر اعظم نے کہا، ’ہم ایک یونٹ کی طرح کھیل رہے ہیں اور ہر کسی کو ہرایک کھلاڑی پر بھروسہ ہے۔ ہم جس طرح کا کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس سے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے‘۔
      بابر اعظم نے کہا، ’ہم ایک یونٹ کی طرح کھیل رہے ہیں اور ہر کسی کو ہرایک کھلاڑی پر بھروسہ ہے۔ ہم جس طرح کا کرکٹ کھیل رہے ہیں، اس سے ہماری خود اعتمادی میں اضافہ ہوا ہے‘۔


      بابر اعظم نے کہا، ’ہمارا منصوبہ پہلے بلے بازی کرکے پاور پلے کا بہترین استعمال کرنے کا تھا، لیکن ہم ایسا نہیں کرسکے۔ پھر میں نے حفیظ اور شعیب کے ساتھ شراکت داری کی۔ شعیب ملک نے جس طرح سے اننگ کا خاتمہ کیا، اس سے ان کا تجربہ نظر آتا ہے، جس کے لئے وہ مشہور ہیں‘۔ انہوں نے سیمی فائنل میں آسٹریلیا سے مقابلہ کے بارے میں کہا، ’ہم جس لے میں ہیں، اسے جاری رکھتے ہوئے کھیلنے کی کوشش کریں گے۔ یقینی طور پر دبئی سب سے بہترین اسٹیڈیم میں سے ایک ہے۔ کھلاڑی کے طور پر جب آپ ناظرین کے سامنے کھیلتے ہو، جو آپ کے لئے چیئر کرتے ہیں تو اس سے آپ کی خود اعتمادی میں اضافہ ہوتا ہے‘۔

       شعیب ملک کو ’مین آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا، جنہوں نے کہا، ’گزشتہ میچوں میں ہم نے دیکھا کہ اگر ہم شروعاتی وکٹ نہیں گنوائے تو آخر میں بڑا اسکور بنانے کا موقع رہتا ہے۔

      شعیب ملک کو ’مین آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا، جنہوں نے کہا، ’گزشتہ میچوں میں ہم نے دیکھا کہ اگر ہم شروعاتی وکٹ نہیں گنوائے تو آخر میں بڑا اسکور بنانے کا موقع رہتا ہے۔


      شعیب ملک کو ’مین آف دی میچ‘ منتخب کیا گیا، جنہوں نے کہا، ’گزشتہ میچوں میں ہم نے دیکھا کہ اگر ہم شروعاتی وکٹ نہیں گنوائے تو آخر میں بڑا اسکور بنانے کا موقع رہتا ہے۔ میں اچھی فارم میں ہوں، لیکن مسلسل اچھا کرکے ٹیم کی مدد کرنا چاہتا ہوں۔ فٹ محسوس کر رہا ہوں۔ ہمیں (سیمی فائنل میں) اپنی سب سے بہترین کارکردگی کرنا ہوگی‘۔

      وہیں اسکاٹ لینڈ کے کپتان کائل کوئتزر نے کہا، ’ہم نے آج پاور پلے میں اچھی گیند بازی کی، لیکن جب پاکستان جیسا بلے بازی لائن اپ ہو تو وہ کسی نہ کسی مرحلے پر باونڈری لگائیں گے ہی۔ یہ کسی بھی ٹیم کے لئے بڑا موقع ہے، لیکن ایسوسی ایٹ رکن کے لئے یہ کافی اہم ہے۔ امید کرتے ہیں کہ ہم نے اسکاٹ لینڈ میں کافی لوگوں کو ترغیب دی ہوگی‘۔
      Published by:Nisar Ahmad
      First published: