ہوم » نیوز » اسپورٹس

بڑی خبر: صبا کریم کا بی سی سی آئی کے جنرل منیجر حیثیت سے استعفیٰ

سابق ہندوستانی وکٹ کیپر صبا کریم نے ہفتہ کے روز ہی اپنا استعفیٰ بی سی سی آئی کو بھجوایا، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ بی سی سی آئی نے ان کا استعفی قبول نہیں کیا ہے۔ صبا کریم کے استعفیٰ پر بی سی سی آئی نے ابھی کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا ہے۔

  • Share this:
بڑی خبر: صبا کریم کا بی سی سی آئی کے جنرل منیجر حیثیت سے استعفیٰ
بڑی خبر: صبا کریم کا بی سی سی آئی کے جنرل منیجر حیثیت سے استعفیٰ

نئی دہلی: ہندستانی کرکٹ کنٹرول بورڈ (بی سی سی آئی) کے جنرل منیجر (کرکٹ آپریشنز) صبا کریم نے اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا ہے۔ حالانکہ بی سی سی آئی نے ان کا استعفیٰ ابھی قبول نہیں کیا ہے۔ سابق ہندوستانی وکٹ کیپر صبا کریم نے ہفتہ کے روز ہی اپنا استعفیٰ بی سی سی آئی کو بھجوایا، لیکن یہ سمجھا جاتا ہے کہ بی سی سی آئی نے ان کا استعفی قبول نہیں کیا ہے۔ صبا کریم کے استعفیٰ پر بی سی سی آئی نے ابھی کوئی تبصرہ بھی نہیں کیا ہے۔ ہندوستان کے لئے ایک ٹسٹ اور 34 ونڈے کھلنے والے 52 سالہ صباکریم کو دسمبر 2017 میں بی سی سی آئی کے ذریعہ اس عہدے پر تقررکیا گیا تھا۔ بورڈ نے اس معاملے میں آفیشیل بیان جاری نہیں کیا ہے، لیکن پتہ چلا ہے کہ وہ گھریلو کرکٹ کے لئے صبا کریم کے منصوبہ سے مطمئن نہیں تھا۔

معاہدے کے مطابق صبا کریم کے پاس نوٹس کی مدت 6 ماہ ہے جب تک کہ بی سی سی آئی ان کا استعفیٰ منظور نہیں کرتا ہے اور اسے اپنے عہدے سے سبکدوش ہونے کی اجازت نہیں دیتا ہے۔ صبا کریم ایسے چوتھے سینئر آفیسر ہیں، جنہوں نے سوربھ گانگولی کی زیر قیادت بی سی سی آئی کی نئی انتظامیہ کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔ بی سی سی آئی کے چیف ایگزیکٹیو راہل جوہری نے رواں ماہ کے شروع میں اپنے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ بورڈ کے چیف فنانشیل آفیسر سنتوش رنگنیکر اور نیشنل کرکٹ اکیڈمی کے چیف آپریٹنگ آفیسر طوفان گھوش نے اپنے عہدوں سے استعفیٰ دے دیا ہے۔



صبا کریم ایسے چوتھے سینئر آفیسر ہیں، جنہوں نے سوربھ گانگولی کی زیر قیادت بی سی سی آئی کی نئی انتظامیہ کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔
صبا کریم ایسے چوتھے سینئر آفیسر ہیں، جنہوں نے سوربھ گانگولی کی زیر قیادت بی سی سی آئی کی نئی انتظامیہ کے بعد استعفیٰ دیا ہے۔


بی سی سی آئی نے مانگا استعفیٰ

بی سی سی آئی کو کے ایک ذرائع نے پی ٹی آئی- بھاشا سےکہا، ’ہاں، انہیں استعفیٰ دینے کو کہا گیا ہے۔ اس کی ایک وجہ یہ ہے کہ وہ کووڈ-19 وبا کو دیکھتے ہوئے گھریلو کرکٹ کے لئے کوئی ٹھوس منصوبہ تیار نہیں کرپائے’۔ گھریلو کرکٹ کے دسمبر سے پہلے شروع ہونے کا امکان نہیں ہے، کیونکہ ملک میں مسلسل کووڈ-19 کے معاملے بڑھ رہے ہیں۔ اگر آئی پی ایل ستمبر سے نومبر کے درمیان ہوتا ہے، جس کی قیاس آرائی کی جارہی ہے تو اسی وقت پر گھریلو کرکٹ نہیں کھیلا جاسکتا۔

نیوز ایجنسی یو این آئی اردو کے اِن پُٹ کے ساتھ۔
Published by: Nisar Ahmad
First published: Jul 19, 2020 09:58 PM IST